We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب

باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  یعنی گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کاباب جس میں مختلف مضامین کی احادیث ہیں اکثر حدیثیں اﷲ کی رحمت اور بندے کے مایوس نہ ہونے کے متعلق ہیں۔

2364 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ كِتَابًا فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ عَرْشِهِ: إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي «. وَفِي رِوَايَةٍ» غَلَبَتْ غَضَبي "

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب اﷲ نے مخلوق پیدا فرمانے کا فیصلہ کیا ۱؎ تو ایک تحریر لکھی جو رب کے پاس عرش کے اوپر ہے ۲؎  کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے اور ایک روایت میں غلبت ہے ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اس طرح کہ مخلوق کو پیدا فرمادیا یا پیدا فرمانے کی ابتداء کی یا موجودات کے ظہور کا ارادہ قریب کیا یا جب میثاق کے دن تمام روحوں کو پیدا کیا۔

۲؎  کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے اورلکھنے سے مراد لکھنے کا حکم دینا ہے فرشتوں کو یا قلم کو  ۔عرش کے اوپر سے مراد درجہ و مرتبہ میں اوپر ہے  نہ کہ جگہ میں کیونکہ لوح محفوظ عرش کے نیچے ہے نہ کہ اس کے اوپر ۔بعض علماء نے فرمایا کہ لوح محفوظ حضرت اسرافیل علیہ السلام کی پیشانی ہے کہ اس میں سارے حالات درج ہیں اور حضرت اسرافیل حاملین عرش فرشتوں کے سردار ہیں،اس کے متعلق اور بہت سے قول ہیں۔(مرقات وغیرہ)

۳؎  اس طرح کہ آثار غضب پر آثار رحمت غالب بھی ہیں اور زیادہ بھی ورنہ خود رحمت و غضب رب تعالٰی کی صفتیں ہیں،وہاں زیادتی کمی اور غالبت مغلوبیت ناممکن ہے۔مطلب یہ ہے کہ میری رحمت کا ظہور بمقابلہ غضب بہت زیادہ ہوگا۔چنانچہ رب تعالٰی کی رحمت تمام مخلوق کو پہنچتی ہے اور غضب کسی کسی کو کفار بھی رب کی رحمت ہی سے روزی پاتے ہیں،بلاؤں سے محفوظ رہتے ہیں۔چنانچہ رحمت کے بارے میں خودفرماتا:"وَ رَحْمَتِیۡ وَسِعَتْ کُلَّ شَیۡءٍ"اور عذاب کے بارے میں فرماتاہے:" عَذَابِیۡۤ اُصِیۡبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُ(از لمعات مع زیادۃ)

2365 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّ للَّهِ مائةَ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطُفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا وَأَخَّرَ اللَّهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَة»

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ کی سو رحمتیں ہیں۱؎ جن میں سے ایک رحمت جن انسان،جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان اتاری جس سے یہ آپس میں ایک دوسرے پر مہربانی اور رحم کرتے ہیں۲؎ اس رحمت سے وحشی جانور اپنے بچے پر مہربان ہوتے ہیں۳؎ اور ننانوے رحمتیں محفوظ رکھ چھوڑی ہیں جن سے اﷲ تعالٰی قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا ۴؎ گا۵؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 441

Go To