Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۹؎  اب بھی اہل عرب جب ریگستان میں پھنس جائیں،تو زندگی سے ناامید ہو کر اس طرح موت کی انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں ہی جان نکل جاتی ہے یہاں وہ ہی نقشہ کھینچا جارہا ہے۔

۱۰؎  یہاں جاگنے سے مراد سر اٹھا کر دیکھنا ہے،ورنہ ایسی حالت میں نیند کہا آتی ہے اور ممکن ہے کہ جاگنے سے حقیقتًا جاگنا ہی مراد ہو اور اتفاقًا اونگھ آگئی ہو،بہرحال یہ ایک تمثیل ہے جس میں یاس کے بعد آس کا نہایت بہترین نقشہ کھینچ کر پیش کیا گیا۔

۱۱؎ یعنی جیسی خوشی اس مایوس بندے کو اس آس پوری ہونے پر ہوسکتی ہے جس نے جان و مال سب کچھ کھو کر سب کچھ پالیا اس سے زیادہ خوشی رب تعالٰی کو اپنے کھوئے ہوئے بندے کے واپس آنے پرہوتی ہے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ روح انسان مسافر ہے بدن اس کی سواری جس پر اس کے اعمال کا سامان ہے،دنیا خطرناک جنگل ہے،یہاں کی غفلت اس مسافر کا سوجانا ہے جب روح غافل ہوکر جاگی تو دیکھا کہ بدن نفسانی خواہشات میں گم ہوچکا تھا،روح کے قبضہ سے نکل چکا تھا،روح نے بہت مشقت سے اسے واپس کرنا چاہا مگر وہ نہ لوٹا مایوس ہو کر روح کو اپنی موت کا یقین ہوگیااور اس نے سمجھ لیا کہ اب میں عذاب دائمی میں گرفتار ہوتی ہوں کہ اچانک رحمت الٰہی نے دستگیری کی اور گم شدہ جسم و نفس کی توفیق خداوندی نے دستگیری کی، روح نے اپنا مقصد پالیا،یا اس کے بعد اس کی آس پوری ہوگئی ایسی روح بہت مبارک ہے۔(مرقات)

۱۲؎ غرضکہ اس حدیث کا جزء مرفوع تو متفق علیہ ہے اور جزءموقوف مفردات بخاری سے ہے پوری حدیث صحیح ہے۔

2359 -[37]

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ المؤمنَ المفتَّنَ التوَّابَ»

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی اس مؤمن کو پسند فرماتا ہے جو فتنوں میں گھرا ہو ۱؎  توبہ کرتا ہو۲؎

۱؎ گناہ و غفلتیں اس پر طاری ہوتی رہتی ہیں،ہمیشہ نیکیاں ہی نہ کرتا ہوکیونکہ ہمیشہ نیکیاں کرنے والا کبھی تکبر و شیخی میں پھنس جاتا ہےاور گناہ میں پھنسا ہوا اکثر شرمندہ رہتا ہے۔اس شرح سے معلوم ہوا کہ اس قاعدے سے زیادہ حضرات انبیاء و خاص اولیاء علیحدہ ہیں کیونکہ ان میں کبھی غرور پیدا ہوتا ہی نہیں لہذا حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ گنہگار بندے انبیاءواولیاء سے زیادہ پیارے ہوں،یہاں ان سے مقابلہ ہے جو نیکیوں پر اِترا جائیں،عجز پیدا کرنے والا گناہ فخر پیدا کرنے والی نیکی سے افضل ہے۔

۲؎  ہر طرف کی توبہ گناہ سے اطاعت کی طرف،غفلت سے بیداری کی طرف،غیبت سے حضور کی طرف اور معصیت سے مصیبت کی طرف لوٹتا ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ رب تعالٰی گناہوں سے ناراض ہے نہ کہ گنہگار سے، گنہگار سے تو توبہ کرنے پر بہت راضی ہو جاتا ہے۔عشاق کہتے ہیں کہ بمقابلہ نیکوں کے بروں پر زیادہ کرم ہے،ماں بیمار لاچار بچہ پرزیادہ مہربان ہوتی ہے،نکمے بیٹے کے لیے کماؤ بیٹے سے لیتی رہتی ہے اور کماؤ سے نکمے کو دلواتی رہتی ہے،ہم نکمے بندے ہیں ہمارے لیے اپنے حبیب سے فرماتاہے:"وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ"اے محبوب اپنی کمائی سے ان نکموں کو کچھ دیتے رہو انہیں جھڑکو نہیں۔

2360 -[38]

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي الدُّنْيَا بِهَذِهِ الْآيَةِ (يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرفُوا على أنْفُسِهم لَا تَقْنَطوا)الْآيَةَ» فَقَالَ رَجُلٌ: فَمَنْ أَشْرَكَ؟ فَسَكَتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «أَلا وَمن أشرَكَ» ثَلَاث مرَّاتٍ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ مجھے اس آیت کے عوض ساری دنیا مل جاتی ۱؎ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ناامید نہ ہوؤ ،الخ ۲؎ ایک شخص بولا تو جو شرک کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر فرمایا یقینًا جو شرک کرے تین بار فرمایا(یعنی اس کی توبہ بھی قبول ہوگی۳؎

 



Total Pages: 441

Go To