Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2358 -[36]

وَعَن الْحَارِث بن سُويَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَدِيثَيْنِ: أحدُهما عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخِرُ عَنْ نَفْسِهِ قَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ قَاعِدٌ تَحْتَ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ مَرَّ عَلَى أَنْفِهِ فَقَالَ بِهِ هَكَذَا أَيْ بِيَدِهِ فَذَبَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: " لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ نَزَلَ فِي أَرْضٍ دَوِيَّةٍ مَهْلَكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ نَوْمَةً فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ رَاحِلَتُهُ فَطَلَبَهَا حَتَّى إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْحَرُّ وَالْعَطَشُ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ قَالَ: أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ فَأَنَامُ حَتَّى أَمُوتَ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى سَاعِدِهِ لِيَمُوتَ فَاسْتَيْقَظَ فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَهُ عَلَيْهَا زَادُهُ وَشَرَابُهُ فَاللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ وَزَادِهِ ". رَوَى مُسْلِمٌ الْمَرْفُوع إِلَى رَسُول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَحَسْبُ وَرَوَى البُخَارِيّ الموقوفَ على ابنِ مَسْعُود أَيْضا

حضرت حارث ابن سوید سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ  ابن مسعود نے  دو حدیثیں سنائیں ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور  دوسری  اپنی طرف سے  ۲؎  فرمایا کہ مؤمن اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے گویا کہ وہ پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے  ڈر  رہا  ہے کہ اس پر گر جائے ۳؎  اور بدکار اپنے اپنے گناہوں کو اس مکھی طرح سمجھتاہے جو اس کی ناک پر گذرے تو یوں کردے یعنی اپنے ہاتھ سے اسے اڑادے ۴؎ پھرفرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالٰی اپنے مؤمن بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے ۵؎  جوکسی جانوروں والی ہلاکت کی زمین میں اترے  اس کے ساتھ سواری ہے جس پر اس کا کھانا پانی ہے اس نے سر رکھا کچھ سوگیا ۶؎ جاگا  تو اس کی سواری جاچکی تھی اسے بہت ڈھونڈ رہا تھا حتی کہ جب اس پر دھوپ یا پیاس یا  جو اللہ نے چاہا غالب آگئی ۷؎ تو بولا کہ میں اپنی اس ہی جگہ لوٹ جاؤں جہاں تھا ۸؎ وہاں سوجاؤں حتی کہ مرجاؤں اپنے بازؤں پر مرنے کے لئے سر رکھ دیا ۹؎ پھر جاگا تو اس کی سواری اس کے پاس تھی جس پر اس کا توشہ پانی تھا ۱۰؎  اللہ تعالٰی مؤمن بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتاہے جویہ سواری سے خوش ہو ۱۱؎مسلم نے صرف وہ  ہی روایت نقل کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ابن مسعود سے مرفوع ہے اور بخاری نے ابن مسعود پر موقوف حدیث بھی روایت کی ہے ۱۲؎

۱؎   آپ جلیل القدر تابعی ہیں،اہل کوفہ سے ہیں،کسی نے حضرت امام احمد بن حنبل سے آپ کے متعلق پوچھا  تو  آپ نے فرمایا ان کی خوبیاں بیان سے بالا ہیں،حضرت عبداللہ بن زبیر کے زمانہ میں فوت ہوئے۔

۲؎  یعنی ایک حدیث  مرفوع  اور  دوسری حدیث موقوف بیان فرمائی  جو خود  ان  کا  اپنا  قول ہے۔

۳؎ یعنی مؤمن کی پہچان یہ ہے کہ وہ گناہِ صغیرہ کو بھی ہلکا نہیں جانتا وہ سمجھتا ہے کہ چھوٹی چنگاری بھی گھر جلاسکتی ہے اس لئے وہ ان کے کرلینے پر بھی جرأت نہیں کرتا اور اگر ہوجائیں توفورًا  توبہ کرلیتا ہے،گناہوں سے خوف کمال ایمان کی علامت ہے۔

۴؎  یعنی چھوٹے کیا بڑے گناہوں کو بھی ہلکا جانتا ہے،کہتا ہے کہ میں نے گناہ کرلیا تو کیا ہوارب غفور رحیم ہے بخش دے گا۔یہ خیال امید نہیں بلکہ خدا تعالٰی سے بے خوفی ہے جو کفر تک پہنچادیتی ہے،انسان پہلے چھوٹے گناہ کو ہلکا جانتا ہے،پھر بڑے گناہوں کو،پھرکفروشرک کو بھی معمولی چیز سمجھنے لگتا ہے۔

۵؎  یہاں خوشی سے مراد  رضا ہے جیساکہ پہلے عرض کیاگیا۔حضرت ابن مسعود نے پہلے تو گناہ کو ہلکا جاننے کی برائی بیان فرمائی ،پھر یہ حدیث سنائی تاکہ بندہ  ہر چھوٹے  گناہ  پر بھی توبہ کرے  اسے حقیر نہ جانے،رب تعالٰی بندہ کی ہر توبہ خواہ گناہ  صغیرہ سے ہو یا کبیرہ بہت ہی راضی و خوش ہوتاہے،رب تعالٰی کو راضی کرنا عبادت ہے تو ہر گناہ سے توبہ کرنا بھی اعلی درجہ کی عبادت ہے۔

۶؎  یعنی بہت معمولی سا سویا،سواری کی بھی فکر تھی  اور جنگلی درندوں  کا بھی اندیشہ۔دنیا  درندوں  والا جنگل ہے،نفس سواری جس پر ہمارا ہر طرح  کا  روحانی  سامان ہے،یہاں غافل ہوکر سوناخطرناک ہے یہ محض تمثیل ہے۔

۷؎  او ماشاءالله یا تو  راوی کا قول  اور او تردد و شک کے لئے ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا تو گرمی و پیاس  کا ذکر  فرمایا  اور یا ماشاءالله فرمایا  اور  یا خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے اور اَو بمعنی بلکہ یعنی صرف بھوک و پیاس ہی غالب  نہ  آئی  بلکہ  تمام وہ مصیبتیں،فکریں،خوف و غم بھی غالب  آگئے  جو رب نے چاہے۔

۸؎ شاید وہاں سواری لوٹ آئی ہو یالوٹ آئے،کیونکہ وہ جگہ اس نے جانی پہچانی ہے،اگر نہ آئی تو موت تو آہی جائے گی خلاصہ یہ کہ یاسواری پاؤنگا یامرجاؤنگا۔

 



Total Pages: 441

Go To