Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

توشہ  اعمال  اپنا  ساتھ  لے  جاؤ  اجی                                                کون پیچھے  قبر میں بھیجے گاسوچو توسہی

بعد مرنے کے تمہیں اپنا پرایا بھول جائے                     فاتحہ کو قبر پر پھر کوئی آئے یانہ آئے

2356 -[34]

وَعَن عبد الله بن يسر قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طُوبَى لِمَنْ وَجَدَ فِي صَحِيفَتِهِ اسْتِغْفَارًا كَثِيرًا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَرَوَى النَّسَائِيُّ فِي «عملِ يَوْم وَلَيْلَة»

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بسر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بہت خوبیاں ہیں جو اپنے نامہ اعمال میں بہت استغفار پائے  ۱؎ (ابن ماجہ) اور نسائی نے اس حدیث کو دن رات کے عمل میں روایت کیا۔

۱؎  یعنی اس نے مقبول  استغفار  بہت  کئے  ہوں  جو  اس  کے نامہ اعمال میں لکھے جاچکے ہوں اسی لئے یہاں بہت استغفار کرنے  کا  ذکر  نہ  فرمایا  بلکہ  نامہ  اعمال  میں  پانے  کا  ذکر  کیا۔مقبول استغفار وہ ہے جو دل کے درد، آنکھوں کے آنسو  اور  اخلاص سے کی جائے صرف اخلاص بھی کافی ہے۔

2357 -[35]

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذا أحْسَنوا استبشَروا وإِذا أساؤوا اسْتَغْفَرُوا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِير

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں عرض کرتے تھے الٰہی مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو نیکیاں کریں اور خوش ہوجائیں اور گناہ کریں تو معافی مانگ لیں ۱؎(ابن ماجہ)اور بیہقی نے دعوات کبیر میں۔

۱؎   سبحان الله! کیسی پیاری دعا ہے یعنی مجھے اس جماعت سے بنا جو اپنی نیکی پر فخر نہیں کرتے بلکہ توفیق خیر ملنے پر تیرا شکر  کرتے  ہیں  اور  گناہوں  پر  لاپرواہی  نہیں کرتے  بلکہ  اس  دھبہ کو  فورًا  توبہ  کے  پانی سے دھو ڈالتے ہیں۔رب تعالٰی حضور کے صدقہ سے یہ صفتیں ہم کو بھی نصیب کرے آمین،فخر کی خوشی گناہ ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیۡنَ"اور شکرکی خوشی عبادت ہے، رب تعالٰی فرماتاہے:"فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا" یہاں شکر کی خوشی مراد ہے۔

2358 -[36]

وَعَن الْحَارِث بن سُويَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَدِيثَيْنِ: أحدُهما عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخِرُ عَنْ نَفْسِهِ قَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ قَاعِدٌ تَحْتَ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ مَرَّ عَلَى أَنْفِهِ فَقَالَ بِهِ هَكَذَا أَيْ بِيَدِهِ فَذَبَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: " لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ نَزَلَ فِي أَرْضٍ دَوِيَّةٍ مَهْلَكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ نَوْمَةً فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ رَاحِلَتُهُ فَطَلَبَهَا حَتَّى إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْحَرُّ وَالْعَطَشُ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ قَالَ: أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ فَأَنَامُ حَتَّى أَمُوتَ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى سَاعِدِهِ لِيَمُوتَ فَاسْتَيْقَظَ فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَهُ عَلَيْهَا زَادُهُ وَشَرَابُهُ فَاللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ وَزَادِهِ ". رَوَى مُسْلِمٌ الْمَرْفُوع إِلَى رَسُول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَحَسْبُ وَرَوَى البُخَارِيّ الموقوفَ على ابنِ مَسْعُود أَيْضا

حضرت حارث ابن سوید سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ  ابن مسعود نے  دو حدیثیں سنائیں ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور  دوسری  اپنی طرف سے  ۲؎  فرمایا کہ مؤمن اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے گویا کہ وہ پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے  ڈر  رہا  ہے کہ اس پر گر جائے ۳؎  اور بدکار اپنے اپنے گناہوں کو اس مکھی طرح سمجھتاہے جو اس کی ناک پر گذرے تو یوں کردے یعنی اپنے ہاتھ سے اسے اڑادے ۴؎ پھرفرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالٰی اپنے مؤمن بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے ۵؎  جوکسی جانوروں والی ہلاکت کی زمین میں اترے  اس کے ساتھ سواری ہے جس پر اس کا کھانا پانی ہے اس نے سر رکھا کچھ سوگیا ۶؎ جاگا  تو اس کی سواری جاچکی تھی اسے بہت ڈھونڈ رہا تھا حتی کہ جب اس پر دھوپ یا پیاس یا  جو اللہ نے چاہا غالب آگئی ۷؎ تو بولا کہ میں اپنی اس ہی جگہ لوٹ جاؤں جہاں تھا ۸؎ وہاں سوجاؤں حتی کہ مرجاؤں اپنے بازؤں پر مرنے کے لئے سر رکھ دیا ۹؎ پھر جاگا تو اس کی سواری اس کے پاس تھی جس پر اس کا توشہ پانی تھا ۱۰؎  اللہ تعالٰی مؤمن بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتاہے جویہ سواری سے خوش ہو ۱۱؎مسلم نے صرف وہ  ہی روایت نقل کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ابن مسعود سے مرفوع ہے اور بخاری نے ابن مسعود پر موقوف حدیث بھی روایت کی ہے ۱۲؎

 



Total Pages: 441

Go To