Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2355 -[33]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الْمَيِّتُ فِي الْقَبْرِ إِلَّا كَالْغَرِيقِ الْمُتَغَوِّثِ يَنْتَظِرُ دَعْوَةً تَلْحَقُهُ مِنْ أَبٍ أَوْ أُمٍّ أَوْ أَخٍ أَوْ صَدِيقٍ فَإِذَا لَحِقَتْهُ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيُدْخِلُ عَلَى أَهْلِ الْقُبُورِ مِنْ دُعَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ أَمْثَالَ الْجِبَالِ وَإِنَّ هَدِيَّةَ الْأَحْيَاءِ إِلَى الْأَمْوَاتِ الِاسْتِغْفَارُ لَهُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میت قبر میں ڈوبتے ہوئے فریادی کی طرح ہی ہوتی ہے ۱؎ کہ ماں باپ بھائی یا دوست کی دعائے خیر کے پہنچنے کی منتظر رہتی ہے ۲؎ پھر جب اسے دعا پہنچ جاتی ہے تو اسے یہ دعا دنیا اور  دنیا کی تمام نعمتوں سے زیادہ پیاری ہوتی ہے ۳؎ اور اﷲ تعالٰی زمین والوں کی دعا سے قبر والوں کو ثواب کے پہاڑ دیتا ہے۴؎ اور یقینًا زندہ کا مردوں کے لیے تحفہ ان کے لیے دعائے مغفرت ہے ۵؎(بیہقی شعب الایمان)

۱؎  عام گنہگار مسلمان تو اپنے گناہوں کی وجہ سے، خاص نیک مسلمان اسی پشیمانی کی وجہ سے کہ ہم نے اور زیادہ نیکیاں کیوں نہ کرلیں،مخصوص محبوبین اپنے چھوٹے ہوئے پیاروں کی وجہ سے ایسے ہوتے ہیں۔تازہ میت برزخ میں ایسی ہوتی ہے جیسے نئی دلہن سسرال میں کہ اگرچہ وہاں اسے ہر طرح کا عیش و آرام ہوتا ہے مگر اس کا دل میکہ میں پڑا رہتا ہے،جب کوئی سوغات یا کوئی آدمی میکے سے پہنچتا ہے تو اس کی خوشی کی حد نہیں رہتی،پھر دل لگتے لگتے لگ جاتا ہے۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں میت سے تازہ میت مراد ہے کہ اسے زندوں کے تحفے کا بہت انتظار رہتا ہے اسی لیے نئی میت کو جلد از جلد نیاز،تیجا،دسواں،چالیسواں وغیرہ سے یادکرتے ہیں۔فقیر کی اس شرح سے معلوم ہوگیا کہ یہ فقط گنہگار کا ہی حال نہیں۔

۲؎  دوست سے مراد خاص دوست بھی ہے اور عام دوست یعنی ہر مسلمان بھی۔زندوں کو چاہئیے کہ مردوں کو اپنی دعاؤں وغیرہ میں یاد رکھیں تاکہ کل انہیں دوسرے مسلمان یاد کریں۔اس حدیث سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہئیے جو نیاز فاتحہ ایصال ثواب سے لوگوں کو طرح طرح کے بہانوں سے روکتے ہیں کل انہیں بھی مرنا ہے۔شعر

نام نیک رفتگان ضائع مکن                                     تابما ند نام نیکت برقرار

۳؎  اس لیے کہ یہ مدد بہت سخت حاجت کے وقت پہنچتی ہے،نیز یہ پرانے وطن کا تحفہ و ہدیہ ہوتا ہے پردیس میں دیس کا خط بھی پیارا معلوم ہوتا ہے۔

۴؎  صوفیاء فرماتے ہیں کہ ہر نیک عمل کا ثواب اسی شکل میں پہاڑ بن کر میت کو پہنچتا ہے اگر روٹی خیرات کی گئی تو وہ روٹی کی شکل میں اس کا ثواب میت کو ملے گا اور کپڑے کی خیرات کا ثواب کپڑے کی شکل میں مگر اس میں رب کی طرف سے بہت برکت ہوتی ہے۔

۵؎ خواہ دعائے مغفرت صراحۃً ہو جیسے"رب اغفرلی ولوالدی و لجمیع المسلمین"خواہ ضمنًا جیسے ان کی طرف سے صدقہ و خیرات کہ یہ چیزیں میت کی بخشش کا ذریعہ ہیں۔غرضکہ یہ حدیث قولی و عملی دونوں استغفاروں کو شامل ہے۔خیال رہے کہ یہ احادیث ان آیا ت کے خلاف نہیں"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"اور"لَہَا مَا کَسَبَتْغیرہ کہ ان آیتوں میں بدنی عمل مراد ہیں یعنی کوئی کسی کی طرف سے فرض نماز روزہ نہیں رکھ سکتا اپنا فرض اپنے ہی کرنے سے ادا ہوگا۔اور یہ احادیث ثواب پہنچانے کے متعلق ہے،ثواب پہنچانا اور ہے  ادائے   فرض  اور یا  آیت میں ملکیت کی نفی ہے اور حدیث  میں  بخشش  کا ثبوت یعنی انسان کی ملک صرف اپنے ہی اعمال ہیں دوسروں کاکیا بھروسہ کوئی  دے  یا نہ  دے،بغل میں توشہ منزل کابھروسہ۔شعر

 



Total Pages: 441

Go To