We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

توبہ بول دینا ایک طرح کا مذاق ہے۔(مرقات)خیال رہے کہ بعض وقت جہاد سے بھاگ جانا جائز بھی ہوتا ہے جب کہ کفار کی یلغار بہت ہی زیادہ ہوجائے اور اب ٹھہرنا ہلاکت ہی ہو اس صورت میں ڈٹا رہنا جان دے دینا بہت ثواب ہے مگر بھاگ جانا بھی گناہ نہیں اورکبھی بھاگنا جنگی چال ہوتی ہےکہ یہاں سے ہٹ کر مضبوط مرکز پر پہنچیں پھر وہاں جم کرجنگ کریں،رب تعالٰی فرماتا ہے: "اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ"یہ بھاگنا ثواب ہے نہ بھاگنا گناہ اور بلاوجہ بزدلی سے چھوڑکر بھاگ جانا سخت گناہ،وہ ہی یہاں مراد ہے لہذا حدیث بالکل واضح ہے اس پرکوئی اعتراض نہیں۔

۳؎ یعنی بلال کے نام میں اختلاف ہوگیا،بعض محدثین ہلال ہ سے فرماتے ہیں،بعض بلال ب سے مگر ب سے ہی زیادہ مشہور ہے۔حافظ منذری نے فرمایا کہ یہ حدیث بہت جید ہے،اس کی اسناد متصل ہے اوراس میں کوئی راوی ضعیف نہیں اور بہت طرق سے مروی ہے۔واﷲ اعلم!

الفصل الثالث

تیسری فصل

2354 -[32]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَنَّى لِي هَذِهِ؟ فَيَقُولُ: باستغفار ولدك لَك ". رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی نیک بندے کے جنت میں درجے بلند فرماتا ہے ۱؎ تو بندہ عرض کرتا ہے الٰہی مجھے یہ بلندی درجہ کہاں سے ملی ۲؎ رب فرماتا ہے تیرے بچے کے تیرے لیے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے۳؎(احمد)

۱؎ اس طرح کی پہلے تو اس کی قبر میں معمولی درجے کی جنت کی کھڑکی کھلتی ہے پھر اعلیٰ درجے کی،پھر اس سے اعلیٰ کی یا اس طرح کہ اسے خبر دی جاتی ہے کہ تیرا درجہ بلند ہورہا ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جنت تو قیامت کے بعد ملے گی درجے قبر میں کیسے بلند ہورہے ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں عبدصالح سے مراد گنہگار مسلمان ہے جو بخشش کی صلاحیت و قابلیت رکھتا ہے پہلے وہ عذاب قبر میں گرفتار ہوتا ہے کہ اچانک عذاب موقوف ہوکر جنت کی کھڑکی قبر میں کھل جاتی ہے لہذا یہ حدیث صرف نیکوں سے مخصوص نہیں۔

۲؎  میں تو قبر میں سو رہا ہوں اعمال کرنے کی طاقت نہیں رکھتا،پھر یہ تبدیلیٔ حال بغیر اعمال کیسے ہو رہی ہے۔ سبحان اﷲ!ر ب کی عطائیں بندے کے وہم سے وراء ہیں۔

۳؎  اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نیک اولاد جو ماں باپ کو ان کے مرنے کے بعد دعائے ایصال ثواب استغفار وغیرہ سے یاد رکھے صدقہ جاریہ ہے اور رب تعالٰی کی رحمت ہے جس کے ذریعہ مردہ کو قبر میں فائدہ پہنچتا رہتا ہے۔دوسرے یہ کہ شفاعت مؤمنین برحق ہے جس کا فائدہ میت کو پہنچتا ہے،پھر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا کہنا ہی کیا۔تیسرے یہ کہ اولاد کو چاہئیے کہ ماں باپ کو دعائے خیر میں یاد رکھے حتی کہ نماز میں سلام پھیرتے وقت"رب اغفرلی ولوالدی"پڑھے،ایسا بچہ نیکو کاروں میں شمار ہوگا۔خیال رہے کہ ولد یعنی بچہ میں بیٹا بیٹی اور ان کی اولاد در اولاد سب شامل ہے،کبھی ساتویں پشت کی اولاد ساتویں دادا کو کام آجاتی ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To