Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎  خلاصہ یہ ہے کہ خوف خدا بہت بڑی نیکی ہے جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"لہذا بڑے سے بڑا مجرم بھی میرے خوف کی وجہ سے بخش دیا جائے گا۔

2352 -[30]

وَعَن ابْن عمر قَالَ: إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ يَقُولُ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ» مِائَةَ مَرَّةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم اس فرمان کو ایک مجلس میں سو بار شمار کرلیتے تھے کہ عرض کرتے تھے یا رب مجھے بخش دے میری توبہ قبول فرما یقینًا تو توبہ قبول فرمانے والا ہے ۱؎(احمد،ترمذی،ابواؤد، ابن ماجہ)

۱؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جگہ کام کے لیے تشریف فرما ہوتے تو تھوڑے تھوڑے وقفہ سے یہ کلمات پڑھتے تھے اور اس کثرت سے پڑھتے تھے کہ اٹھنے سے پہلے سو بار تک فرمالیتے تھے،یہ تو عام مجالس پاک کا ذکر ہے خصوصی عبادات کی مجلسوں کا کیا پوچھنا۔مغفرت و توبہ کا فرق پہلے عرض کیا گیا،نیز یہ بھی کہ یہ کلمات ہماری تعلیم کے لیے ہیں،نیز ان کا پڑھنا عبادت اورحضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اعلیٰ درجہ کے عابد ہیں لہذا یہ حدیث عصمت انبیاء کے خلاف نہیں۔

2353 -[31]

وَعَن بِلَال بن يسَار بن زيدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ غُفِرَ لَهُ وَإِنْ كَانَ قَدْ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ لَكِنَّهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ هِلَالُ بْنُ يَسَارٍ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب

روایت ہے حضرت بلال بن یسار ابن زید سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے میرے دادا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو یہ پڑھا کرے معافی مانگتا ہوں اس اﷲ سے جس کے سواء کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے قائم رکھنے والا ہے اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں تو اس کی بخشش کردی جائے گی اگرچہ وہ جہاد سے بھاگا ہو ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد)لیکن ابوداؤد کے نزدیک راوی ہلال ابن یسار ہیں اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۳؎

۱؎ غلام رسول اﷲ ہونا حضرت زید کی صفت ہے نہ کہ بلال کی اور یہ زید ابن حارثہ نہیں ہیں بلکہ یہ زید ابن  بولیٰ نوبی  ہیں جن کی کنیت ابو یسار ہے،زید تو صحابی ہیں مگر ان کے بیٹے یسار اور پوتے بلال وغیرہ تابعی ہیں،ان بلال سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے جیساکہ ابن حجر نے تقریب میں اور ملا علی قاری نے مرقات میں فرمایا۔

۲؎ یعنی جہاد میں دشمن کے مقابلہ سے بزدلی کی بنا پر بھاگ جانا بدترین گناہ ہے مگر اس استغفار کی برکت سے ان شاءاﷲ وہ بھی معاف ہوجائے گا جیسے دواؤں کی جڑیاں بوٹیاں مختلف تاثیریں رکھتی ہیں کوئی معمولی بیماری میں مفید ہوتی ہے،کوئی سخت خطرناک بیماری میں ایسی روحانی بیماریوں کے لیے دعاؤں کے الفاظ مختلف تاثیر رکھتے ہیں یہ استغفار بدترین گناہوں کی بخشش کے لیے مفید ہے مگر وہ تاثیریں طبیب کو معلوم ہوتی ہیں اور یہ تاثیریں حبیب کو معلوم ہیں ہم،ان سے بے خبر ہیں مگر علماء فرماتے ہیں کہ توبہ سچے دل سے ہو تب اس کی یہ تاثیریں ہیں کہ توبہ کے وقت آئندہ گناہ سے بچنے کا پورا ارادہ ہو،گناہ پر قائم رہتے ہوئے منہ سے توبہ



Total Pages: 441

Go To