Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

نہیں جیسے رب تعالٰی نے فرمایا ہے کہ اے محبوب فرمادو اگر خدا کے بیٹا ہوتا تو پہلے اسے میں پوجتا نہ خدا کے بیٹا ہوسکتا ہے نہ حضور اس کی پوجا کرسکتے ہیں۔

۷؎ أُمْنِیَّتُہٗ ہمزہ کے پیش اور ی کے شد سے ہے،بمعنی خواہش و آرزو،اس کی جمع منی یا امانی ہے،یہاں ممکن و جائز آرزو مراد ہے،کبھی ناجائز و نفسانی خواہش کو امنیہ کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"تِلْکَ اَمَانِیُّہُم"

۸؎  یہاں نقص بمعنی کم ہونا ہے نہ کہ بمعنی کم کرنا یہ ترجمہ نہایت صحیح ہے یعنی اگر تمام مخلوق کی خواہشات پوری کردی جائیں اور ان کی تمنائیں دے دی جائیں تو یہ عطیہ ہمارے خزانوں کے سامنے ایسا ہوگا جیسے بھیگی سوئی کی تری سمندر کے مقابل،رب تعالٰی فرماتا ہے کہ ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں ہم اندازے سے ہی اتارتے ہیں،یہ نسبت بھی سمجھانے کے لیے ہے ورنہ محدود متناہی کو غیرمحدود لامتناہی سے نسبت ہی کیسی۔

۹؎ خیال رہے کہ سخی وہ جو خود بھی کھائے دوسروں کو بھی کھلائے مگر جوّاد وہ ہے جو دوسروں کو کھلائے خود نہ کھائے۔سخی کا مقابل بخیل ہے اور جواد کا مقابل ممسک۔ماجد مجد سے بنا،بمعنی وسیع العطاءجس کی عطاءمخلوق کی وہم و گمان سے وراء ہو۔

۱۰؎ یعنی جو میں چاہتا ہوں وہ کرتا ہوں جو مخلوق چاہتی ہے وہ نہیں کرتا کیونکہ مخلوق میرے تابع ہے نہ میں مخلوق کے تابع۔ (مرقات)خیال ہے کہ جن بندوں نے اپنی مرضی رب کی مرضی میں گم کردی پھر جو وہ چاہتے ہیں وہ رب کرتا ہے کیونکہ وہ چاہتے ہی وہ ہیں جو رب چاہے اور رب چاہتا وہ ہے جو یہ بندہ چاہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی"۔رب تعالٰی حدیث کی فہم صحیح نصیب کرے۔

۱۱؎ یہاں ہوجا فرمانے سے مراد ہے اس کا ارادہ کرلینا یعنی جس چیز کا ارادہ فرمالیتا ہوں وہ ہوجاتی ہے،ارادہ کے سواءکسی اور عمل کی مجھے ضرورت نہیں لہذا اس پر آریوں کا یہ اعتراض نہیں کہ معدوم چیز سے کہنا کہ ہو جا عقل کے خلاف ہے،معدوم چیز سننے کے قابل نہیں پھر ہوجا کس سے فرمایا جاتا ہے۔

2351 -[29]

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ (هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَة)قَالَ:قَالَ رَبُّكُمْ أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى فَمَنِ اتَّقَانِي فَأَنَا أَهْلٌ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت فرمایا وہ تقویٰ اور بخشش والا ہے حضور نے فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے کہ میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے ۱؎ جو مجھ سے ڈرے گا تو میں اس لائق ہوں کہ اسے بخش دوں ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یعنی تقویٰ مصدر مجہول ہے اور اپنے مفعول کی طرف منسوب۔معنے یہ ہیں کہ میں اس لائق ہوں کہ ساری خلق مجھ سے ڈرے۔ خیال رہے کہ ڈر بمعنی ہیبت ساری مخلوق کو ہے،انبیائے کرام،اولیاء،اﷲ،عام مؤمنین، خاص صالحین کے دل میں رب تعالٰی کی ہیبت بقدر قرب ہے جس قدر رب سے قرب زیادہ اسی قدر اس کی ہیبت زیادہ مگر خوف عذاب صرف گنہگاروں کو ہے اور خوف عقاب کفار کو لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ"کہ وہاں خوف عذاب کی نفی ہے اور یہاں ہیبت الٰہی کا ثبوت ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To