Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2349 -[27]

وَعَن ابْن عَبَّاس: فِي قَوْله تَعَالَى: (إِلَّا اللمم)قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنْ تَغْفِرِ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمَّا وَأَيُّ عَبْدٍ لَكَ لَا أَلَمَّا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب

روایت ہے حضرت ابن عباس سے اﷲ تعالٰی کے اس قول کے متعلق کہ الا اللمم  ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الٰہی اگر تو بخشے تو بڑے گناہ بخش دے گناہ صغیرہ کس بندے نے نہیں کئے ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۳؎

۱؎ آیت کریمہ یہ ہے"اَلَّذِیۡنَ یَجْتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوٰحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ"جو لوگ گناہ کبیرہ اور بے حیائیوں سے بچے رہتے ہیں بجز چھوٹے گناہوں کے۔علماء فرماتے ہیں کہ جن گناہوں پر حد شرعی مقرر ہے وہ کبیرہ ہیں اور جن پر کوئی وعید نازل ہوئی وہ فاحشہ ہے اور جن پر ان دونوں میں سے کچھ نہیں وارد ہوا صرف ممانعت ہے وہ لمم یعنی گناہ صغیرہ ہے۔

۲؎  یہ شعر امیہ ابن ابی الصلت کا ہے اگرچہ امیہ زمانہ جاہلیت کے شعراء میں سے ہے مگر اس کے اشعار بہت حکمت و معرفت کے ہیں اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اشعار سنتے بھی تھے اور خود پڑھتے بھی تھے۔چنانچہ یہ شعر حضور انور نے بطور دعا پڑھا۔مطلب یہ ہے کہ اے مولیٰ تو تو کریم ہے اپنی بخشش میں گناہ صغیرہ کی قید نہ لگا،تو چاہے تو بڑے بڑے گناہ بھی بخش دے،گناہ صغیرہ تو سارے ہی لوگ کرتے رہتے ہیں مولیٰ صغیرہ بھی بخش اور کبیرہ بھی،بتا کہ گناہ کبیرہ والے کس دروازے پر جائیں،ان کا ٹھکانہ بھی تیرا ہی دروازہ ہے۔

۳؎ یعنی یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے جن میں سے بعض اسنادیں صحیح ہیں،بعض غریب لہذا متن حدیث صحیح بھی ہیں،حسن بھی اور غریب بھی۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم شعر سنتے اور پسند کرتے بھی تھے اور خود بھی پڑھتے تھے۔رب جو فرماتاہے:"وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ"وہاں شعر بنانا اور شعر گا کر پڑھنا مراد ہے۔(مرقات)یا شعر سے مراد جھوٹا کلام ہے اس کی بحث ہماری کتاب "جاءالحق"میں ملاحظہ فرمایئے۔

2350 -[28]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ فَاسْأَلُونِي الْهُدَى أَهْدِكُمْ وَكُلُّكُمْ فُقَرَاءُ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ فَاسْأَلُونِي أُرْزَقْكُمْ وَكُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ فَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أُبَالِي وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عبَادي مَا زَاد فِي ملكي جنَاح بعوضةولو أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا عَلَى أَشْقَى قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ. وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْكُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ فَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ مِنْكُمْ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي إِلَّا كَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ مَرَّ بِالْبَحْرِ فَغَمَسَ فِيهِ إِبْرَةً ثُمَّ رَفَعَهَا ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ أَفْعَلُ مَا أُرِيدُ عَطَائِي كَلَامٌ وَعَذَابِي كَلَامٌ إِنَّمَا أَمْرِي لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ لَهُ(كُنْ فَيَكُونُ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی فرماتاہے اے میرے بندو تم سب گمراہ ہو سواء اس کے جسے میں ہدایت دوں لہذا مجھ سے ہدایت مانگو تمہیں ہدایت دوں گا ۱؎ اور تم سب فقیر ہو سواء اس کے جسے میں غنی کردوں لہذا مجھ سے مانگو میں تمہیں روزی دوں گا ۲؎ اور تم سب مجرم ہو سواء اس کے جسے میں سلامت رکھوں تو تم میں سے جو یہ جان لے کہ میں بخش دینے پر قادر ہوں پھر مجھ سے معافی مانگے تو میں اسے بخش دوں گا۳؎ اور پرواہ بھی نہ کروں گا اور  اگرتمہارے اگلے پچھلے،زندے مردے، ترو خشک میرے بندوں میں نیک ترین بندے کے دل پر ہوجائیں۴؎ تو یہ ان کی نیکی میرے ملک میں مچھر کے برابر بڑھائے گی نہیں ۵؎ اور اگر تمہارے اگلے پچھلے،زندے مردے،تروخشک میرے بندوں میں سے بدبخت ترین دل پرمتفق ہو جائیں تو ان کے یہ جرم میرے ملک سے مچھر کے پر برابر کم نہ کریں گے ۶؎ اور اگر تمہارے پچھلے زندے مردے،تر و خشک ایک میدان میں جمع ہوں اور پھر تم میں سے ہر شخص اپنی انتہائی تمنا آرزو مجھ سے مانگے ۷؎ پھر میں ہر منگتے کو دے دوں تو یہ میرے ملک کے مقابل ایسا ہی کم و تھوڑا ہوگا جیسے تم میں سے کوئی دریا پر گزرے اس میں سوئی ڈبوئے پھر اسے اٹھائے ۸؎ یہ اس لیے ہے کہ میں داتا ہوں ۹؎ بہت دینے والا جو چاہتا ہوں کرتا ہوں ۱۰؎ میری عطا صرف فرمادینا ہے اور میرا عذاب صرف فرمادینا ہے،میرا حکم کسی شئے کے متعلق یہ ہے کہ جب کچھ چاہتا ہوں فرمادیتا ہوں ہوجا وہ ہوجاتی ہے ۱۱؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)

 



Total Pages: 441

Go To