Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎ حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ چاندی کا نصاب دوسو درہم یعنی ساڑھے باون تولہ ہے جس سے کم میں زکوۃ واجب نہیں،پھر دوسو کے بعد انتالیس درہم تک معافی چالیس پر ایک درہم اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ چاندی سونے کی زکوۃ میں دو نصابوں کے درمیان نصاب کے پانچ حصہ سے کم معاف رہتا ہے اور پانچویں حصہ پر زکوۃ بڑھتی ہے۔چنانچہ ساڑھے سات تولہ سونے کے بعد ڈیڑھ تولہ سے کم میں معافی ہوگی اور ڈیڑھ تولہ پر زکوۃ بڑھے گی،چاندی میں ساڑھے باون تولہ کے بعد سوا دس تولہ تک معافی اور ساڑھے دس تولہ پر زکوۃ بڑھے گی۔

۳؎  ان کا نام حارث ابن عبداﷲ ہمدانی ہے،کنیت ابو زہیر ہے،تابعی ہیں۔مشہور یہ ہے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ہیں،بعض محدثین نے آپ میں جرح کی ہے،آپ نے حضرت علی سے کل چار حدیثیں روایت کی ہیں۔(مرقات وغیرہ)

۴؎  یعنی زہیر جو راویٔ حدیث ہیں وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یقین نہیں بلکہ گمان ہے کہ یہ حدیث مرفوع ہے موقوف نہیں،حضرت علی کا خود اپنا قول نہیں ہے بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔

۵؎ اس کی شرح ابھی گزر چکی۔خیال رہے کہ چاندی کی زکوۃ میں سکہ رائج الوقت کا اعتبار نہیں بلکہ وزن ملحوظ ہے مگر تجارتی سامان کی زکوۃ میں سکہ رائج الوقت معتبر ہے کیونکہ چاندی میں خود اس پر زکوۃ ہے مگر تجارتی مال میں اس کی قیمت پر ہے لہذا دو سو درہم کا لفظ بہت وسیع ہے،چوری کی سزا میں بھی مسروقہ مال کی قیمت کا اعتبار ہے۔(مرقاۃ)اس حدیث کی بنا پر صاحبین فرماتے ہیں کہ دوسو درہم کے بعد ہر درہم پر زکوۃ واجب ہے کیونکہ مَازَادَ عام ہے مگر امام اعظم فرماتے ہیں کہ چالیس درہم سے کم میں زکوۃ نہیں،یہاں مَازَادَ سے مراد چالیس درہم ہیں جیسا کہ اوپر کے جملہ سے معلوم ہوا اور دوسری احادیث نے اس کی تصریح فرما دی،نیز ابوداؤد کی اس دوسری حدیث کی اسناد میں حارث و عاصم ہیں ان دونوں پرمحدثین نے سخت جرح کی ہے لہذا یہ حدیث قابل سند نہیں۔غرضکہ فما زاد فعلی حساب ذالك کی عبارت مجروح ہے لہذا حق یہ ہی ہے کہ دوسو درہم کے بعد چالیس درہم سے کم پر زکوۃ نہ ہوگی۔

۶؎  یہ جملہ بھی تمام احادیث صحیحہ کے خلاف ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتاہے کہ ہر چالیس بکریوں سے ایک بکری زکوۃ دی جائے تو ایک سوبیس میں تین بکریاں واجب ہوں،حالانکہ چالیس کے بعد ایک سو بیس تک زکوۃ نہیں بڑھتی۔مرقات نے فرمایا کہ لفظ کُلْ زائد ہے،بعض نے فرمایا کہ یہ کُلْ افرادی نہیں بلکہ بیان صنف کے لیے ہے یعنی بکری،بھیڑ دنبہ وغیرہ ان تمام میں چالیس پر زکوۃ ہے لہذا یہ آئندہ حدیث کے بھی خلاف نہیں اور دیگر احادیث کے بھی مخالف نہیں۔

۷؎ اس کی شرح پہلے ہوچکی ہے۔خیال رہے کہ بکریوں کی زکوۃ میں بکری کا چھوٹا بچہ نہ دیا جائے گا بلکہ جوان بکری یا بکرا جسے بکری کہہ سکیں مگر اس میں اونٹ و گائے کی طرح عمر مقرر نہیں کہ اتنے سال یا اتنے ماہ کی بکری۔

۸؎  یعنی تیس گائیوں میں یکسالہ بچھڑی یا بچھڑا واجب ہے۔یکسالہ بچھڑے کو تبیعہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس وقت بچہ اپنی ماں کے تابع ہوتا ہے،اونٹ کی زکوۃ میں صرف مادہ ہی وصول کی جاتی ہے مگر گائے کی زکوۃ میں فرمایا وہ دونوں لیے جاسکتے ہیں کیونکہ بعض لحاظ سے مادہ اچھی ہے کہ نسل دیتی ہے اور بعض وجوہ سے نر اچھا کہ کھیتی باڑی میں کام آتا ہے۔

۹؎  اسی طرح اگر اونٹ کام کاج کے لیے ہوں تو ان میں زکوۃ نہیں پھر علوفہ یعنی گھر چارہ کھانے والی میں زکوۃ نہیں۔

1800 -[7]

وَعَنْ مُعَاذٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ الْبَقَرَة: مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً وَمِنْ كل أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ والدارمي

روایت ہے حضرت معاذ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن میں بھیجا ۱؎  تو حکم دیا کہ گائے میں ہرتیس سے ایک سالہ نر یا مادہ وصول کریں اور ہر چالیس سے دو سالہ۲؎ (ابو داؤد،ترمذی،نسائی،دارمی)

 



Total Pages: 441

Go To