We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

ہیں جیسے سونا چاندی،لوہا اورباقی دھاتیں اور بعض پتلی جیسے پانی،تیل اور تار کول اور بعض چیزیں خشک نہ گلنے والی جیسے چونا، ہڑتال،ہر قسم کے پتھر،یاقوت،نمک وغیرہ۔امام اعظم کے ہاں صرف دھاتوں میں خمس واجب ہے اور امام شافعی کے ہاں صرف سونے چاندی میں،وہ باقی دھاتوں کو شکار کے جانور کی مثل مانتے ہیں جس کو مل جائے اسی کی۔(لمعات،مرقات،اشعہ)

الفصل الثانی

دوسری فصل

1799 -[6]

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَهَاتُوا صَدَقَةً الرِّقَةِ: مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةٍ لأبي دَاوُد عَن الْحَارِث عَنْ عَلِيٍّ قَالَ زُهَيْرٌ أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " هَاتُوا رُبْعَ الْعُشْرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ. فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ. فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ. وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَة ز فَإِن زَادَت وَاحِدَة فشاتان إِلَى مِائَتَيْنِ. فَإِن زَادَتْ فَثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ على ثَلَاث مائَة فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ. فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا تِسْعٌ وَثَلَاثُونَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ فِيهَا شَيْءٌ وَفِي الْبَقَرِ: فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ وَفِي الْأَرْبَعين مُسِنَّة وَلَيْسَ على العوامل شَيْء "

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ کی تو معافی دے دی ۱؎  مگر چاندی کی زکوۃ دو ہر چالیس میں ایک درہم ہے اور ایک سونوے میں کچھ نہیں جب دوسو کو پہنچیں تو ان میں پانچ درہم ہیں۲؎(ترمذی و ابوداؤد)اور ابوداؤد کی ایک روایت میں حضرت حارث ابن اعور سے ہے۳؎ وہ حضرت علی سے راوی زہیر کہتے ہیں مجھے خیال ہے حضرت علی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۴؎ کہ آپ نے فرمایا کہ چالیسواں حصہ دو ہر چالیس درہم میں ایک درہم ہے اور تم پر کچھ نہیں حتی کہ دو سو درہم پورے ہوجائیں تو جب دو سو درہم ہوجائیں تو ان میں پانچ درہم میں جو اس پر زیادہ ہو تو اسی حساب پر ہے۵؎ اور بکریاں میں ہر چالیس بکریوں میں ایک بکری ہے۶؎ ایک سو بیس تک کہ اگر ایک زیادہ ہوجائے تو دو بکریاں دو سو تک اگر زیادہ ہوں تو تین بکریاں تین سو تک پھر اگر تین سو پر زیادہ ہوں تو ہرسینکڑے میں ایک بکری،اگر بکریاں انتالیس ہوں تو ان کا تم پر کچھ نہیں ۷؎ اور گایوں میں ہرتیس میں ایک سالہ بچہ ہے ۸؎  اور چالیس میں دو سالہ بچہ اور کام کاج کے جانوروں میں کچھ نہیں ۹؎

۱؎  گھوڑے سے مراد سواری کا گھوڑا اور غلام سے خدمت کا غلام مراد ہے یہاں گھوڑا اور غلام مثالًا بیان فرمایا گیا ورنہ حاجت اصلیہ میں گھرے ہوئے کسی مال کی زکوۃ نہیں یعنی میں نے ان چیزوں کی زکوۃ معاف کردی یہاں مرقات میں ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم احکام شرعیہ کے مالک ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے معاف کردی یعنی اگر چاہتا تو ان سب کی زکوۃ واجب کردیتا۔

 



Total Pages: 441

Go To