Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2326 -[4]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ: «يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ -[720]- عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّي فَتَضُرُّونِي وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وإنسكم وجنكم كَانُوا أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أفجر قلب وَاحِد مِنْكُم مَا نقص مِنْ مُلْكِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعمالكُم أحصها عَلَيْكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ وَمِنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومن إِلَّا نَفسه» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوذر سے فر ماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان روایتوں میں جو حضور اپنے رب تبارک و تعالٰی سے روایت فرماتے ہیں کہ رب نے فرمایا اے میرے بندوں میں نے ظلم کو اپنے نفس پر حرام فرمالیا ہے ۱؎ اور تمہارے آپس میں بھی ظلم کو حرام فرمادیا۲؎ لہذا ظلم نہ کرو اے میرے بندو تم سب گمراہ ہو بجز اس کے جسے میں ہدایت دے دوں لہذا مجھ سے ہدایت مانگو ہدایت دوں گا۳؎ اے میرے بندو تم سب بھوکے ہو بجز اس کے جسے میں روزی دوں لہذا مجھ سے کھانا مانگو تمہیں دوں گا اے میرے بندو تم سب ننگے ہو بجز اس کے جسے میں پہناؤں لہذا مجھ سے لباس مانگو میں دوں گا۴؎ اے میرے بندو تم دن رات کے خطا کار ہو اور میں سارے گناہ بخشتا رہتا ہوں مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں بخش دوں گا ۵؎ اے میرے بندو تم میرے نقصان کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچادو اور نہ میرے نفع تک تمہاری رسائی ہے کہ مجھے نفع دو ۶؎  اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان و جن اپنے کسی بڑے پرہیزگار کے دل پر متفق ہو جائیں۷؎ تو تمہارا یہ متفقہ تقویٰ میرے ملک میں کچھ بڑھائے گا نہیں ۸؎  اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان و جن اپنے میں سے کسی بڑے بدکار کے دل پر متفق ہوجائیں تو تمہاری یہ متفقہ بدکاری میرے ملک میں کچھ کمی نہ کر دے گی ۹؎ اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان و جن ایک میدان میں کھڑے ہوکر مجھ سے بھیک مانگیں پھر میں ہر انسان کا سوال پورا کردوں تو یہ میرے خزانوں کے مقابلہ ایسا حقیر ہوگا جیسے سوئی کی تری جب وہ دریا میں ڈبوئی جائے ۱۰؎ اے میرے بندو میں تمہارے اعمال شمار میں رکھ رہا ہوں پھر ان کا بدلہ تمہیں پورا پورا دوں گا ۱۱؎ جو نیکی پائے تو وہ اﷲ کی حمدکرے اور جو اس  کے علاوہ پائے وہ صرف اپنے کو ہی ملامت کرے۱۲؎(مسلم)

۱؎ یہاں حرمت سے مراد شرعی حرمت نہیں کیونکہ حق تعالٰی پر نہ کوئی حاکم ہے اور نہ اس پر شرعی احکام جاری ہیں  بلکہ  اس سے مراد  ہے  برتر ہونا،منزہ ہونا،پاک ہونارب۔تعالٰی  کے لیے  کوئی  شے ظلم  ہوسکتی  ہی  نہیں کیونکہ ظلم کے معنی ہیں   دوسرے کی ملک میں زیادتی کرنا یا کسی چیز کو بے محل استعمال کرنا ان دونوں سے پروردگار پاک ہے کیونکہ ہر چیز اس کی ملک ہے اور جس کے استعمال کے لیے جو جگہ مقرر فرمادے وہی اس کا صحیح مصرف ہے اس کے افعال یا عدل ہیں یا فضل۔اس کے معنی یہ ہیں کہ میں ظلم سے منزہ اور پاک ہوں،میرا کوئی کام ظلم نہیں ہوسکتا۔بعض نے فرمایا کہ یہاں ظلم سے مراد بے قصور کو سزا دینا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم!

۲؎  لہذا تم کسی پر جانی مالی یا آبرو ریزی  کا ظلم نہ کرو یہ تمام جرموں سے بڑا جرم ہے کہ یہ حق العباد ہے توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتا۔

۳؎  اس  کا  مطلب  یہ  ہے کہ  ہماری  پیدائش  تاریکی  میں  ہوئی  پھر ہم  پر  نور  کا  چھینٹا  دیا  گیا  اگر  ہم کو  ہمارے نفسوں پر چھوڑ دیا جائے تو ہم عقیدتًا عملًا بدی ہی کریں گے،اگر وہ   اپنا فضل کرے  تو ہم نیکی کریں،ہم ببول کا درخت ہیں، ہمارے پاس سواء گناہوں کے کانٹوں کے اور کیا ہے، ہماری صفت ہے"اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا"لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ بچہ فطرت یعنی توحید پر پیدا ہوتا ہے کہ وہاں دنیا میں آنے کا ذکر ہے اور یہاں ہماری اصل پیدائش کا۔خیال رہے کہ حضرات انبیاءواولیاءبھی رب تعالٰی ہی کی ہدایت سے ہدایت یافتہ ہیں مگر وہ ہمارے لیے ہدایت کا مرکز ہیں کہ ہم ان سے ہی ہدایت لے سکتے ہیں جیسے سورج کو نور رب تعالٰی نے دیا ہے مگر چاند تارے اور زمین اس سے ہی نور لیتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ

۴؎  یعنی تم روحانی و جسمانی غذاؤں میں میرے محتاج ہو اسی طرح قلب قالب،روح کے لباس میں میرے حاجت مند ہو،غذا کا ہر حیوان حاجت مند ہے اور لباس کا صرف انسان۔خیال رہے کہ تما م انبیاء اولیاء اور بادشاہ رب تعالٰی کے حاجت مند ہیں،رب تعالٰی



Total Pages: 441

Go To