Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

سے مراد ان گنہگاروں کے لیے استغفار کرنا ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تا قیامت اپنی امت کے سارے حالات پر مطیع ہیں،ان گناہوں کو دیکھتے ہیں، دل کو صدمہ ہوتا ہے اس صدمے کے جوش میں انہیں دعائیں دیتے ہیں۔(لمعات،مرقات،اشعہ وغیرہ)اس کی تائید قرآن کی اس آیت سے ہوتی ہے"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"اے مسلمانو تمہاری تکلیفیں ان پرگراں ہیں۔شعر

آنچہ  تو  کردی  کسے  باخود  نہ  کرو                                 روح   پاک   مصطفی   آمد   بدرد

بدہنسیں     تم     ان    کی     خاطر                                        رات       بھر        روؤ       کراہو

بد     کریں      ہر      دم      برائی                                           تم    کہو    ان      کا    بھلا      ہو

2325 -[3]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مائةَ مرِّةٍ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے لوگو اﷲ کی بارگاہ میں توبہ کرو ۱؎ دیکھو میں دن میں سو بار توبہ کرتاہوں ۲؎(مسلم)

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ لوگوں سے مراد مسلمان ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوۡنَ"۔اور ہو سکتا ہے کہ سارے انسانوں سے خطاب ہو یعنی اے کافرو کفر سے توبہ کرو،اے گنہگارو گناہوں سے باز آجاؤ،اے نیک کارو اپنی نیکی کو کم جانو اور توبہ کرو۔معلوم ہوا کہ ہر شخص توبہ کا حاجت مند ہے۔

۲؎  جو پہلے عرض کیا گیا تھا اس کی تائید اس جملے سے ہوگئی یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہماری تعلیم کے لیے توبہ کرتے تھے۔مطلب یہ ہے کہ جب ہم معصوم ہوکر روزانہ سو بار توبہ کرتے ہیں تو تم کو چاہئیے کہ تم ہزاروں بار توبہ کیا کرو۔

2326 -[4]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ: «يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ -[720]- عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّي فَتَضُرُّونِي وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وإنسكم وجنكم كَانُوا أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أفجر قلب وَاحِد مِنْكُم مَا نقص مِنْ مُلْكِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعمالكُم أحصها عَلَيْكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ وَمِنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومن إِلَّا نَفسه» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوذر سے فر ماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان روایتوں میں جو حضور اپنے رب تبارک و تعالٰی سے روایت فرماتے ہیں کہ رب نے فرمایا اے میرے بندوں میں نے ظلم کو اپنے نفس پر حرام فرمالیا ہے ۱؎ اور تمہارے آپس میں بھی ظلم کو حرام فرمادیا۲؎ لہذا ظلم نہ کرو اے میرے بندو تم سب گمراہ ہو بجز اس کے جسے میں ہدایت دے دوں لہذا مجھ سے ہدایت مانگو ہدایت دوں گا۳؎ اے میرے بندو تم سب بھوکے ہو بجز اس کے جسے میں روزی دوں لہذا مجھ سے کھانا مانگو تمہیں دوں گا اے میرے بندو تم سب ننگے ہو بجز اس کے جسے میں پہناؤں لہذا مجھ سے لباس مانگو میں دوں گا۴؎ اے میرے بندو تم دن رات کے خطا کار ہو اور میں سارے گناہ بخشتا رہتا ہوں مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں بخش دوں گا ۵؎ اے میرے بندو تم میرے نقصان کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچادو اور نہ میرے نفع تک تمہاری رسائی ہے کہ مجھے نفع دو ۶؎  اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان و جن اپنے کسی بڑے پرہیزگار کے دل پر متفق ہو جائیں۷؎ تو تمہارا یہ متفقہ تقویٰ میرے ملک میں کچھ بڑھائے گا نہیں ۸؎  اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان و جن اپنے میں سے کسی بڑے بدکار کے دل پر متفق ہوجائیں تو تمہاری یہ متفقہ بدکاری میرے ملک میں کچھ کمی نہ کر دے گی ۹؎ اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان و جن ایک میدان میں کھڑے ہوکر مجھ سے بھیک مانگیں پھر میں ہر انسان کا سوال پورا کردوں تو یہ میرے خزانوں کے مقابلہ ایسا حقیر ہوگا جیسے سوئی کی تری جب وہ دریا میں ڈبوئی جائے ۱۰؎ اے میرے بندو میں تمہارے اعمال شمار میں رکھ رہا ہوں پھر ان کا بدلہ تمہیں پورا پورا دوں گا ۱۱؎ جو نیکی پائے تو وہ اﷲ کی حمدکرے اور جو اس  کے علاوہ پائے وہ صرف اپنے کو ہی ملامت کرے۱۲؎(مسلم)

 



Total Pages: 441

Go To