We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب الاستغفار و التوبۃ

بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کاباب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ استغفار کے معنی ہیں گزشتہ گناہوں کی معافی مانگنا اور توبہ کی حقیقت ہے آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہدکرلینا یا زبان سے گناہ نہ کرنے کا عہد استغفار ہے اور دل سے عہد توبہ۔استغفار غفر سے بنا،بمعنی چھپانا یا چھلکا و پوست،چونکہ استغفار کی برکت سے گناہ ڈھک جاتے ہیں اس لیے اسے استغفار کہتے ہیں۔توبہ کے معنے رجوع کرنا،اگر یہ حق تعالٰی کی صفت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ارادۂ عذاب سے رجوع فرمالینا اور اگر یہ بندے کی صفت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں گناہ سے اطاعت کی طرف،غفلت سے ذکر کی طرف،غیبت سے حضور کی طرف لوٹ جانا۔توبہ صحیح یہ ہے کہ بندہ گزشتہ گناہوں پر نادم ہو،آئندہ  نہ کرنے کا عہدکرے اور جس قدر ہوسکے اسی قدرگزشتہ گناہوں کا عوض اور بدلہ کردے۔نمازیں ہوں تو قضا کرے،کسی کا قرض رہ گیا ہے تو ادا کردے۔حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ توبہ کا کمال یہ ہے کہ دل لذتِ گناہ بلکہ گناہ بھول جائے۔

2323 -[1]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ إِنِّي لِأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سبعينَ مرَّةً» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب کی قسم میں ایک دن میں ستر بار سے زیادہ رب سے مغفرت مانگتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۱؎(بخاری)

۱؎ توبہ و استغفار روزے نماز کی طرح عبادت بھی ہے اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر عامل تھے یا یہ عمل ہم گنہگاروں کی تعلیم کے لیے ہے ورنہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم معصوم ہیں گناہ آپ کے قریب بھی نہیں آتا۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ ہم لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے ہیں اور وہ حضرات عبادت کرکے توبہ کرتے ہیں۔شعر

زاہداں از گناہ توبہ کنند                              عارفاں از عبادت استغفار

سیدنا علی مرتضٰی فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں کے لیے دنیا میں دو امانیں ہیں:ایک نے پردہ فرمالیا اور دوسری قیامت تک ہمارے پاس ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور استغفار۔

2324 -[2]

وَعَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْم مائَة مرّة» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت اغرمزنی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے دل پر پردہ آتا رہتا ہے حالانکہ میں دن میں سو بار استغفار پڑھتا ہوں ۱؎(مسلم)

۱؎  یُغَانُ غین سے بنا،بمعنی پردہ اسی لیے سفید بادل کو غین کہا جاتاہے۔اس پردے کے متعلق شارحین نے بہت خامہ فرسائی کی ہے بعض کے نزدیک اس سے مراد حضور کی دنیا میں مشغولیت ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سے سونا مراد ہے،بعض کے خیال میں اس سے مراد اجتہادی خطائیں ہیں مگر حق یہ ہے کہ یہاں غین سے مراد اپنی امت کے گناہوں کو دیکھ کر غم فرمانا ہے اور استغفار



Total Pages: 441

Go To