Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2319 -[26]

وَعَن مَكحولِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ". قَالَ مَكْحُولٌ: فَمَنْ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا مَنْجًى مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ كَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ سَبْعِينَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ أَدْنَاهَا الْفَقْرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ وَمَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

روایت ہے حضرت مکحول سے ۱؎ وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں مجھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لاحول ولا قوۃ الا باﷲ زیادہ پڑھا کرو کہ یہ جنت کے  خزانے سے ہے ۲؎  مکحول فرماتے ہیں جو کوئی پڑھاکرے لاحول ولا قوۃ الا باﷲ اور لا منجامن اﷲ الا الیہ تو اﷲ تعالٰی اس سے ستر مصیبتوں کے در بند کردے گا جن میں سے ادنیٰ مصیبت فقیری ہے۳؎ (ترمذی) اور ترمذی نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد متصل نہیں مکحول نے حضرت ابوہریرہ سے سنا نہیں۴؎

۱؎ آپ جلیل القدر تابعی ہیں،حبشی النسل ہیں،شام کے مفتی ہیں،امام زہری فرماتے ہیں کہ چار علماء بڑے کامل ہیں:مدینہ منورہ میں ابن مسیب اور کوفہ میں امام شعبی،بصرہ میں خواجہ حسن بصری،شام میں مکحول۔

۲؎ اس کی شرح پہلےگزر چکی یعنی یہ جنت کی نفیس نعمتوں میں سے ہے جو اس دن کام آئیں گی جب مال و اولاد کچھ کام نہ آئیں کہ محفوظ خزانے خاص ضرورت کے وقت ہی کھولے جاتے ہیں۔

۳؎  مرقات نے فرمایا کہ یہاں فقیری سے مراد دل اور مال دونوں کی فقیری ہے یعنی اس کا عامل مال کا بھی غنی ہوگا اور دل کا بھی کیونکہ جو اپنے کو رب کے سپردکردے وہ یقینًا غیر سے مستغنی ہوتاہے اس شخص پر اگر کبھی مال کی غریبی آبھی گئی تو وہ دل کا فقیر نہ بنے گا۔

۴؎ کیونکہ جناب مکحول نے حضرت انس ابن مالک واثلہ ابن اسقع اور ہندوزان صحابہ سے ملاقات کی ہے لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مکحول جیسے جلیل القدر تابعی کا ایک راوی کا چھوڑ دینا کوئی مضر نہیں،جب امام بخاری کی تعلیق معتبر ہے جس میں ایک راوی کا ذکر بھی نہیں ہوتا تو حضرت مکحول کا  ایک راوی چھوڑ دینا کیوں مضر ہوگا۔

2320 -[27]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ دَوَاءٌ مِنْ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ دَاء أيسرها الْهم»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لاحول ولا قوۃ الا باﷲ ننانوے بیماریوں کی دعا ہے ۱؎ جن میں ادنی بیماری غم ہے ۲؎

۱؎ بیماریوں سے مراد جسمانی،روحانی،دنیاوی،اخروی بیماریاں ہیں کہ لاحول شریف ان سب کا مکمل علاج ہے۔

۲؎  غم دنیاوی ہو یا دینی و اخروی لاحول شریف کی برکت سے ہر طرح کا غم دور ہوتا ہے،معاش و معاد کی فکر سے بندہ آزاد ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ غم سے آزادی حق تعالٰی کی بڑی نعمت ہے کہ حق تعالٰی نے یونس علیہ السلام پر بڑا کرم یہ فرمایا کہ مچھلی کے شکم سے انہیں غم سے نجات دی،فرماتاہے:"فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ وَ نَجَّیۡنٰہُ مِنَ الْغَمِّ"۔خیال رہے کہ غم آخرت رحمت بھی اور عذاب بھی۔یہاں غم سے مراد دوسری قسم کا غم ہے،شیطان کو بھی رب سے خوف ہے وہ کہتاہے"اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعٰلَمِیۡنَ"اور مؤمن کو بھی مگر شیطان کا خوف عذاب ہے جیسے مجرم کو حاکم سے ڈر لگتا ہے اور مؤمن  کا یہ غم رحمت جیسے مطیع غلام کو آقا سے ہیبت ہوتی ہے۔

2321 -[28]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَسلَمَ عَبدِي واستسلم ". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتادوں جو عرش کے نیچے سے آیا ۱؎ جنت کے خزانوں سے ہے ۲؎  وہ لاحول ولا قوۃ الا باﷲ ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ فرمانبردار ہوگیا اور اس نے اپنے کو میرے سپردکردیا ۳؎  یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دعوات کبیر میں نقل کیں۔

 



Total Pages: 441

Go To