Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۴؎ اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہے"یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیۡہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَ اَیۡدِیۡہِمْ وَ اَرْجُلُہُمۡ"الخ اور اس آیت سے ہے"وَمَا کُنۡتُمْ تَسْتَتِرُوۡنَ اَنْ یَّشْہَدَ عَلَیۡکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَاۤ اَبْصٰرُکُمْ وَ لَا جُلُوۡدُکُمْ"۔اس سے معلوم ہوا کہ بمقابلہ دانوں پر شمار کرنے کے انگلیوں پر شمارکرنا افضل ہے اور یہ کہ اعضا کو اچھے کاموں میں لگانا چاہیے ورنہ یہ ہمارے خلاف گواہی دیں گے۔

۵؎ یعنی اگر تم خدا کو بھول گئیں تو رب تعالٰی تمہیں اپنی رحمت سے دور کردے گا،اگر اس کی رحمت چاہتی ہو تو اسے یاد رکھو رب تعالٰی بھول چوک سے پاک ہے اس لیے بھلائی جاؤ گی کہ وہ ہی معنی ہیں جو عرض کئے گئے یعنی رحمت سے دوری،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"تم مجھے یادکرو میرے ذکر سے میں تمہیں یاکروں گا اپنی رحمت سے۔مولانا فرماتے ہیں شعر

گر تو خواہی زیستن با آبرو                                          ذکرِ اُوکُن ذکرِ اوکن ذکرِ اُو

الفصل الثالث

تیسری فصل

2317 -[24]

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عَلِّمْنِي كَلَامًا أَقُولُهُ قَالَ: «قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَى بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» . فَقَالَ فَهَؤُلَاءِ لِرَبِّي فَمَا لِي؟ فَقَالَ: «قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» . شَكَّ الرَّاوِي فِي «عَافِنِي» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک بدوی حاضر ہوئے بولے مجھے کوئی وظیفہ سکھائیے جو میں پڑھ لیا کروں  ۱؎ فرمایا کہو اکیلے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں،اﷲ بہت ہی بڑا ہے،اﷲ کی بہت حمد ہے،اﷲ پاک ہے،جہانوں کا پالنے والا،اﷲ غالب حکمت والے کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قوت وہ بولے یہ تو رب کے لیے ہوئے میرے لیے کیا ہے ۲؎  فرمایا یوں کہو الٰہی مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما،مجھے ہدایت دے،مجھے روزی دے۳؎ مجھے امن نصیب کر ۴؎ راوی کو عَافِنِی میں کچھ شک ہے ۵؎(مسلم)

۱؎  بطور وظیفہ نمازوں کے بعد یا ویسے ہی اوقات مقررہ میں۔معلوم ہوا کہ مشائخ سے وظیفے پوچھنا اور ان کی اجازت حاصل کرنا سنت ہے کہ اجازت سے خاص تاثیر پیدا ہوجاتی ہے ثواب حاصل کرنے کے لیے کسی اجازت وغیرہ کی ضرورت نہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ علاوہ نماز و تلاوت قرآن کے اور ورد و ظیفے بھی کرنے چاہئیں ۔نماز و تلاوت تو روحانی غذائیں ہیں اور یہ وظیفے روحانی میوے،غذا اور میوے دونوں ہی فائدہ مندہیں۔

۲؎  سبحان اﷲ! کیسے مزے کا سوال ہے یعنی یا حبیب اﷲ ان الفاظ میں رب تعالٰی کی حمد تو ہوگئی کچھ دعائیہ کلمے نہ آئے میں اس کی حمدبھی کرنی چاہتا ہوں اور اس سے بھیک مانگنی بھی۔

 ۳؎ یعنی میرے گناہ بخش دے،مغفرت فرما،مجھ پر رحم کر کہ مجھے اطاعتوں کی توفیق دے،اچھی زندگی گزارنے کی توفیق دے،ہدایت دے،مجھے حلال روزی عطا فرما۔

 



Total Pages: 441

Go To