Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ خصوصی ملاقات چھٹے آسمان پر وہاں ہی گفتگو ہوئی،عمومی ملاقات تو سارے انبیاء سے بیت المقدس میں ہوچکی تھی مگر وہاں یہ گفتگو نہ ہوئی وہاں کی گفتگو کچھ اور تھی جو ان شاءاﷲ حدیث معراج کی شرح میں عرض کی جائے گی۔

۲؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اﷲ کے مقبول بندے بعد وفات ایک دوسرے سے بھی ملتے ہیں،اور زندہ مقبول بندوں سے بھی۔دوسرے یہ کہ وہ حضرات زندوں کا سلام سنتے بھی ہیں اور انہیں سلام کہلواتے بھی ہیں۔تیسرے یہ کہ وفات یافتہ بندوں کو اور جو ابھی پیدا نہ ہوئے ہوں ان کو بھی سلام کہلوانا جائز ہے جب کہ ان کو پہنچ سکے،ابراہیم علیہ السلام نے قیامت تک کے مسلمانوں کو سلام کہلوایا جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ ہم لوگوں تک پہنچ گیا،سلطان العارفین با یزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ خرقان پہنچے تو لوگوں کو خبر دی کہ اس سرزمین میں سو برس کے بعد خواجہ ابوالحسن خرقانی پیدا ہوں گے جو انہیں پائے میرا سلام پہنچائے۔مولانا فرماتے ہیں شعر

آن شنیدی داستان بایزید                          کہ از حال ابوالحسن از پیش دید

آخر میں مولانا فرماتے ہیں۔شعر

بلکہ قبل از زادن تو سالہا                          مرمر تراد اند بجملہ حالہا

صحابہ کرام قریب الوفات صحابہ سے فرماتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہمارا سلام عرض کرنا۔چوتھے یہ کہ ہم کو بھی چاہیے کہ ابراہیم علیہ السلام کو بھی سلام کیا کریں کہ سلام کا جواب دینا ضروری ہے۔

۳؎ یعنی جنت کی بعض زمین درختوں سے بھری ہوئی ہے اور وہ درخت پھلوں سے لدے ہوئے ہیں اسی حصہ میں آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو رکھا گیا تھا اور بعض زمین سفیدہ ہے جس میں تمہارے وظیفوں و اعمال سے درخت لگیں گے،جب تم یہاں آؤ گے تو دونوں قسم کے باغ پاؤ گے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اگر وہاں کی زمین سفیدہ ہے تو اسے جنت کیوں کہتے ہیں،جنت کے معنی تو ہیں باغ اور نہ یہ اعتراض ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے معراج میں وہاں باغ اور پھل سب کچھ ملاحظہ فرمائے۔

2316 -[23]

وَعَنْ يُسَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُنَّ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّقْدِيسِ واعقِدْنَ بالأناملِ فإِنهنَّ مسؤولات مُسْتَنْطَقَاتٌ وَلَا تَغْفُلْنَ فَتَنْسَيْنَ الرَّحْمَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت یسیرہ سے آپ مہاجر بیویوں میں سے ہیں ۱؎ فرماتی ہیں ہم سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا اے بیبیو تسبیح وتہلیل اور رب کی پاکی بولنے کو لازم کرلو۲؎ انگلیوں پر گنا کرو ۳؎ (عقد انامل)کہ انگلیوں سے سوال ہوگا انہیں گویائی بخشی جائے گی۴؎ اور کبھی غافل نہ ہونا ورنہ تم رحمت سے بھلادی جاؤ گی ۵؎ (ترمذی و ابوداؤد)

۱؎ آپ کا نام یسیرہ بنت یاسر ہے،مشہور صحابیہ ہیں۔

۲؎ اس طرح کہ کسی حال میں سبّوح قدّوس ربنا ورب الملئکۃ والروح یا سبحان الملك القدوس یا دیگر تسبیحیں اسی قسم کی کبھی نہ چھوڑو،اپنا منہ ان ذکروں سے تر رکھو۔

۳؎  اس طرح کہ ان کا شمار انگلیوں کے پوروں پرکیا کرو یا عقد انامل کے ذریعہ پوری انگلیوں پر کیا کرو۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیبیاں عقد انامل جانتی ہوں گی اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں عقد انامل کا حکم تو دیا مگر اس کا طریقہ نہ بتایا۔

 



Total Pages: 441

Go To