We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

اور قوت سے مراد ہے خیرحاصل کرنے کا ذریعہ یعنی بندے میں بغیر رب تعالٰی کی مدد کے نہ ظاہری طاقت ہے نہ اندرونی قوت،اس کے بغیرکرم بندہ نہ گناہوں سے بچ سکتا ہے نہ نیکیاں کرسکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اﷲ کی دین،اس کے کرم سے بندہ میں ظاہری باطنی طاقتیں آسکتی ہیں جیساکہ اولیاءوانبیاء کے کرامات و معجزات سے معلوم ہوتا ہے۔حضرت سلیمان نے تین میل سے دور چیونٹی کی آوازسن کر سمجھ لی،حضرت آصف بن برخیا پل بھر میں یمن سے تخت بلقیس لے آئے یہ ربانی طاقتیں رحمانی عطا سے تھیں،بجلی کے بلب،پنکھے،مشین وغیرہ بغیر پاورمحض بیکار ہیں پاور آجائے تو بہت طاقتور ہوجاتے ہیں،بجلی کا تار آدمی کیا ہاتھی کو ہلاک کردیتا ہے۔قرآن کریم میں جو من دون اﷲ کی برائیاں آتی ہیں یہ وہی ہیں جو خدا سے الگ اور دور ہیں،رب تعالٰی نے فرمایا:"وَ وَجَدَ مِنۡ دُوۡنِہِمُ امْرَاَتَیۡنِ تَذُوۡدَانِ"یعنی موسیٰ علیہ السلام نے مردوں سے الگ دور دو عورتوں کو دیکھا جو اپنے جانور پکڑے کھڑی تھیں،دیکھو دون کے معنی الگ یا دور ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کلموں کو خزانہ اسی لیے فرمایا کہ یہ کلمے جنتی نعمتوں کے خزانے ملنے کے سبب ہیں یا اﷲ تعالٰی نے دوسری قوموں سے یہ  کلمات ایسے چھپائے تھے جیسے خزانے غیروں میں چھپائے جاتے ہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2304 -[11]

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت جابر سےفرماتےہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو سبحان اﷲ العظیم وبحمدہٖ پڑھے اس کے لیے جنت میں درخت بویا جائے گا ۱؎ (ترمذی)

۱؎  جنت کی بعض زمین تو میوے پھولوں کے درختوں سے بھری ہے،بعض زمین خالی،اس خالی زمین میں ہمارے نیک اعمال مثل درختوں کے نمودار ہوتے ہیں یہاں اس خالی زمین کا ذکر ہے،جنت میں باغات تو ہیں مگر کھیت نہیں کیونکہ کھیت میں دانے ہوتے ہیں جو غذا کے کام آتے ہیں وہاں نہ بھوک ہے نہ غذا کی ضرورت،باغوں میں پھل پھول ہوتے ہیں جن سے لذت لی جاتی ہے، تمام درختوں میں کھجور کا درخت بہت ہی مفید ولذیذ ہے اس لیے لاحول شریف سے درختِ کھجور ہوتا ہے۔

2305 -[12]

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ صَبَاحٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مُنَادٍ يُنَادِي سَبِّحُوا الْمَلِكَ القدوس» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی کوئی صبح نہیں جسے بندے پائیں مگر ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ پاک بادشاہ کی تسبیح پڑھ لو ۱؎ (ترمذی)

۱؎ یعنی ہر صبح کو فرشتہ یہ آواز دیتا ہے کہ اس وقت تسبیح پڑھو یا آج دن بھر پڑھتے رہنا،چونکہ صبح کے وقت ہر مخلوق تسبیح کرتی ہے اس لیے خصوصیت سے انسانوں میں یہ اعلان ہوتا ہے کہ تم اشرف المخلوق ہو دوسری مخلوق سے پیچھے نہ رہو،نیز چونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ نداء ہم تک پہنچادی اس لیے فرشتہ کا پکارنا رائیگاں نہ گیا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب ہم



Total Pages: 441

Go To