We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب ثواب التسبیح و التحمید و التھلیل و التکبیر

سبحان اﷲ،الحمد ﷲ،لاالہ الا اﷲ،اﷲ اکبر کہنے کاباب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یہ تعمیم کے بعدتخصیص ہے کیونکہ پہلے باب میں ذکراﷲ کے فضائل بیان ہوئے،ذکراﷲ میں یہ تسبیح وغیرہ بھی داخل تھی مگر چونکہ دیگر اذکار سے یہ ذکر افضل ہیں اسی لیے ان کے ثواب کے لیے علیحدہ باب باندھا۔ خیال رہے کہ تسبیح کے معنے ہیں اﷲ تعالٰی کو تمام نقصان و عیوب سے پاک جاننا یا پاک بیان کرنا۔اسمائے الہیہ وردکرنے والے پر اس نام کی تجلی وار ہوتی ہے تو جو سبحان اﷲ کا ورد کیا کرے تو ان شاءاﷲ خود یہ بندہ برائیوں سے پاک ہوجائے گا۔تسبیح بہت اعلیٰ ذکر ہے اسی لیے نماز شروع کرتے ہیں سُبْحٰنَكَ اللّٰھُمَّ سے، رکوع میں سُبْحٰنَ رَ بِّیَ الْعَظِیْم،سجدہ میں سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ،خبرعجیب پر سُبْحٰنَ اﷲ کہتے ہیں۔

2294 -[1]

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ "وَفِي رِوَايَةٍ: " أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت سمرہ بن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے افضل کلمات چار ہیں ۱؎ سبحان اﷲ، الحمدﷲ،لا الہ الا اﷲ اور اﷲ اکبر ۲؎  اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اﷲ کو پیارے کلمات چار ہیں سبحان اﷲ ،الحمد ،لا الہ الا اﷲ اور اﷲ اکبر جس کلمہ سے ابتداءکرو مضر نہیں ۳؎ (مسلم)

۱؎  یعنی انسانی کلمات یا دوسرے وِردوظیفوں سے یہ چار کلمے بہت ثواب کا باعث ہیں کیونکہ ان کلمات میں رب تعالٰی کی بے شمار حمدیں مذکور ہیں۔سبحان اﷲ کے معنے ہیں میں اللہ تعالٰی کو سارے عیوب سے پاک مانتا ہوں۔الحمدﷲ کے معنے ہوئے تمام ہی تعریفیں رب تعالٰی کی ہیں کہ وہ تمام صفات کمالیہ کا جامع ہے۔لا الہ الخ وہ کلمہ ہے جسے پڑھ کر بندہ مسلمان بنتا ہے اور اﷲ اکبر میں اس کی کبریائی اور تمام مخلوق سے بڑے ہونے کا اعتراف ہے لہذا یہ کلمات رب تعالٰی کی جامع صفات ہیں،اب حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سب سے افضل تو قرآن شریف ہے پھر یہ کلمات کیسے افضل ہوگئے۔خیال رہے کہ یہ چاروں کلمات قرآن شریف میں موجود ہیں اگلے تین تو صراحۃً چوتھا کلمہ اشارۃً و معنًی،دوسری روایت میں ہے کہ یہ کلمات باقیات صالحات سے ہیں۔یہ بھی خیال رہے کہ ان کلمات کو کلام فرمانا لغۃً ہے نہ کہ اصطلاحًا لہذا اگر کوئی شخص کلام نہ کرنے کی قسم کھائے وہ ان کلمات کے پڑھنے سے حانث نہ ہوگا کہ قسم میں کلام سے مراد انسان کا کلام ہے جسے اصطلاح میں کلام کہا جاتا ہے۔

۲؎ اﷲ اکبر کے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اﷲ تعالٰی ہماری حمدوثنا بلکہ ہمارے خیال و وہم سے بڑا ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے"لَا اُحْصِیْ ثَنَاءَ عَلَیْكَ"میں تیری ثناء کما حقہ نہیں کرسکتا۔

۳؎  مرقات میں فرمایا کہ یہ ترتیب عزیمت ہے،اس کے خلاف رخصت یعنی بہتر یہ ہے کہ اس ترتیب سے ان کا ورد کرے اگر اس کے خلاف بھی کیا تو حرج نہیں۔

 



Total Pages: 441

Go To