We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

دن تجلی گاہ رہا جب مچھلی کا پیٹ عرش اعظم سے افضل ہوگیا تو حضرت آمنہ خاتون رضی اللہ عنہا کا وہ شکم پاک جس میں سید الانبیاءنو ماہ تک جلوہ افروز رہے وہ توعرش سے کہیں افضل ہے اس کی تحقیق ہماری"تفسیرنعیمی" جلد اول میں ملاحظہ فرمائیے۔قیمتی موتی قیمتی ڈبی میں رکھا جاتا ہے۔

۲؎  اس سے بھی اشارۃً معلوم ہوا کہ لا الہ الا انت اسم اعظم ہے اور یہ دعا حضرت یونس علیہ السلام کو رب تعالٰی کی طرف سے القاء ہوئی،اسی دعا کی برکت سے آئی آفتیں ٹل جاتی ہیں،اڑی مشکلیں حل ہوجاتی ہیں۔خیال رہے کہ ظلم کے تین معنے ہیں:کفر و شرک،رب تعالٰی فرماتا ہے: "اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیۡمٌ"۔گناہ،خطا بھول چوک یہاں تیسرے معنے مراد ہیں کیونکہ حضرات انبیاء بدعقیدگی و بدعملی سے معصوم و موصؤن ہیں، نیز حضرت یونس علیہ السلام سے اس موقعہ پر صرف خطاء ہی سرزد ہوئی تھی جیساکہ ان کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رب تعالٰی نے آپ کو مقام نینویٰ موصل کا نبی کیا۔جب قوم نے آپ کی اطاعت نہ کی تو آپ نے بحکم پروردگار انہیں خبر دی کہ تین دن بعد تم پر عذاب آجائے گا اور آپ نینویٰ سے جو موصل کا ایک شہر ہے بغیر حکم الٰہی آئے روانہ ہوگئے،یہ سمجھ کر کہ عذاب کی جگہ سے پیغمبر کو چلا جانا چاہیے پھر عذاب کا بادل نینویٰ پر چھا گیا،وہاں کے باشندوں نے سچی توبہ کرلی اور آیا ہوا عذاب ٹل گیا تین دن کے بعد آپ نے دور سے اس شہر کو دیکھا تو آباد تھا آپ شہر میں اس لیے نہ آئے کہ میں نے تو انہیں عذاب کی خبر دی تھی اور عذاب آیا نہیں اب میری وہاں بڑی بے عزتی ہوگی اور دوسری جگہ چلے گئے جاتے ہوئے دریا سامنے آیا کشتی میں بیٹھے، درمیان سمندر میں کشتی ٹھہر گئی،ملاحوں نے کہاکہ شاید اس کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام ہے جس سے کشتی آگے نہیں چلتی آپ نے فرمایا وہ میں ہی ہوں اور دریا میں چھلانگ لگادی ایک مچھلی منہ پھاڑے بیٹھی تھی وہ آپ کو نگل گئی اور دریائے نیل پھر دجلہ میں ہوتی ہوئی شام کے علاقہ میں جا نکلی وہاں دریا نے آپ کو زمین پر اگل دیا پھر کدو کی بیل نے آپ  پر سایہ کیا ہرنی  آپ کو دودھ پلاتی رہی مرقات وغیرہ۔

۳؎  کیونکہ رب تعالٰی کا وعدہ ہے کہ فرمایا:"فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ وَ نَجَّیۡنٰہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذٰلِکَ نُـْۨـجِی الْمُؤْمِنِیۡنَ"یعنی اس دعا کی برکت سے ہم نے انہیں بھی غم سےنجات دی اور تاقیامت مسلمانوں کو بھی اس کی برکت سے نجات دیا کریں گے۔(مرقات)معلوم ہوا کہ بزرگوں کی زبان سے نکلی ہوئی دعاء بہت تاثیر والی ہوتی ہے کیوں نہ ہوکہ الفاظ دعا گولی،زبان رائفل جب دونوں قوتیں جمع ہوجائیں تو شکار یقینی ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2293 -[7]

عَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ عِشَاءً فَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَأُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَقُولُ: هَذَا مُرَاءٍ؟ قَالَ: «بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِيبٌ» قَالَ: وَأَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَقْرَأُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَسَمَّعُ لِقِرَاءَتِهِ ثُمَّ جَلَسَ أَبُو مُوسَى يَدْعُو فَقَالَ:اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أُحُدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخْبِرُهُ بِمَا سَمِعْتُ مِنْكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: أَنْتَ الْيَوْمَ لِي أَخٌ صَدِيقٌ حَدَّثْتَنِي بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ رزين

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ عشاء کے وقت مسجد میں گیا تو وہاں ایک شخص بلند آواز سے تلاوت کررہا تھا میں نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا حضور فرماتے ہیں کہ یہ ریا کار ہے ۱؎ فرمایا بلکہ رجوع الی اﷲ والا بندہ ہے ۲؎ فرمایا اور ابو موسیٰ اشعری خوب بلند آواز سے تلاوت کررہے تھے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ان کی قرأت غور سے سننے لگے۳؎ پھر ابو موسیٰ بیٹھ کر دعا مانگنے لگے یوں کہا الٰہی میں گواہ ہوں کہ تو اﷲ ہے تیرے سواء کوئی معبود نہیں اکیلا ہے لائق بھروسہ ہے ۴؎ جس کا کوئی ہمسرنہیں تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا انہوں نے اﷲ کے اس نام سے دعا مانگی کہ جب اس نام سے کچھ مانگا جائے تو رب دیتا ہے جب اس نام سے دعا کی جائے تو قبول کرتا ہے ۵؎  میں نے عرض کیا میں انہیں وہ بتادوں جو میں نے آپ سے سنا فرمایا ہاں میں نے انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کی خبر دی انہوں نے مجھ سے فرمایا تم آج سے میرے بھائی ہو کیونکہ تم نے مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث پہنچائی ۶؎(رزین)

 



Total Pages: 441

Go To