Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

تحریر فرمایا:"ان الابل اذا زادت علی عشرین ومائۃ استونفت الفریضۃ"۔فتح القدیر نے اس مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق و فاروق رضی اللہ عنھما کی بہت تحریریں نقل فرمائیں جن میں سے بحوالہ ابوداؤد و ترمذی و ابن ماجہ حضرت عمر فاروق کی تحریر اور بحوالہ نسائی باب الدیات اور بحوالہ مراسیل،ابوداؤد وعمرو ابن حزم کی تحریرنقل فرمائی۔شرح کنز میں بہت سی احادیث جمع کی ہیں جن سب میں یہی ہے کہ ایک سوبیس کے بعد نئے سرے سے زکوۃ واجب ہوگی۔یہ حدیث اگرچہ بخاری کی ہے مگر وہ احادیث بھی بہت سی اسنادوں سے مروی ہیں اور امام بخاری کی پیدائش سے پہلے ہی اجتہاد مجتہدین کی بنا پر قوی ہوچکی تھیں،اگر کسی کی اسناد میں بعدکو ضعف پیدا ہوا ہو تو ان مجتہدین کو مضر نہیں۔ (ازمرقات)

۱۲؎  یعنی اگر مالک چاہے تو چار اونٹوں سے ہی صدقہ نفلی ادا کردے۔کتنا ادا کرے یہ اسے اختیار ہے۔

۱۳؎  کیونکہ چار سالہ اونٹنی کی قیمت کم ہوتی ہے پنج سالہ کی زیادہ،مالک نے چونکہ واجب سے کم زکوۃ دی ہے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے یا ساتھ میں دو بکریاں دے یا  بیس درہم یعنی پانچ روپے۔خیال رہے کہ اس زمانہ میں عمومًا چار سالہ اور پنجسالہ میں اتنا ہی فرق ہوتا تھا اور بکری کی قیمت ڈھائی روپے ہی تھی اس لیے یہ فرمایا گیا اب یہ حساب نہ ہوگا،اب تو ایک بکری چالیس پچاس روپے کی ہوتی ہے،اب آج کے حساب سے زیادتی کمی لی جائے گی۔

۱۴؎ اس کی وجہ پہلے بیان ہوچکی یہ اس زمانہ کی قیمتوں کے حساب سے ہے۔

۱۵؎  خلاصہ یہ ہے کہ اگر عامل نے زکوۃ سے زیادہ قیمتی جانور وصول کرلیا ہے تو بقدر زیادتی مالک کو واپس کرے اور اگر اس سے کم لیا ہے تو کمی پوری کرنے کے لیے کچھ اوربھی ساتھ لے مگر لین دین میں حساب برابر رکھا جائے گا کیونکہ انصاف کرنا ہے۔

۱۶؎ یعنی اونٹ کی زکوۃ میں مادہ  ہی واجب ہے لیکن اگر  مادہ   نہ  ہو  تو  اس سے اونچی عمر کا نر لیاجائے گا تاکہ انوثیت کا بدلہ  زیادتی عمر سے ہوجائے۔خیال رہے کہ  مادہ نہ ہونے کی تین صورتیں ہیں: ایک یہ کہ مادہ موجود ہی نہیں۔ دوسرے یہ کہ موجود تو ہے مگر بیمار یا دبلی ہے یا موجود تو ہے مگر بہت فربہ موٹی،نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے اور زکوۃ میں درمیانی لی جاتی ہے ان تینوں صورتوں میں زیادہ عمر کا نر لیا جائے گا۔(مرقات)

۱۷؎ عربی میں بکری کو غنم کہتے ہیں کیونکہ اس کے پاس دشمن سے بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہیں اس لیے اسے ہر دشمن غنیمت کی طرح آسانی سے لے لیتا ہے۔بھیڑ اور دنبے بکریوں کے حکم میں ہیں۔

۱۸؎  جنگل میں چرنے والی وہ بکری ہے جو سال کا اکثر حصہ جنگل کی قدرتی پیداوار کھاکر پلے اگر زیادہ حصہ گھر کے چارے پرگزارے تو اسے علوفہ کہیں گے اس میں زکوۃ نہیں ہاں اگر تجارت کی بکریاں ہیں تو ان میں تجارتی زکوۃ ہے گھر چریں یا جنگل میں۔خیال رہے کہ ا گر بکریوں کے دودھ کی تجارت کرتا ہو نہ کہ عین بکری کی تو ان میں تجارت کی زکوۃ نہیں۔

۱۹؎   خلاصہ یہ ہے کہ بکری کا نصاب چالیس ہے خواہ خالص بکریاں ہوں یا بکری بکرے مخلوط،خالص بکروں میں زکوۃ نہیں کیونکہ ان کی نسل نہیں چلتی پھر پہلی کسر۸۰ہے جس میں زکوۃ نہیں بڑھتی یعنی ایک سوبیس تک ایک ہی بکری واجب ہوتی ہے،ایک سو بیس کے بعد پھر۸۰ کسر ہے جس سے زکوۃ نہیں بڑھتی،دو سو تک دو بکریاں ہی واجب ہوتی ہیں،پھر سو کسر ہے جن سے زکوۃ نہیں بڑھتی تین سو تک تین ہی بکریاں رہتی ہیں تین سو کے بعد بھی سو ہی کسر ہے،چارسو پر۴ بکریاں واجب ہوں گی،عام علماء کا یہی قول ہے البتہ امام نخعی اور حسن ابن صالح رحمۃ اﷲ علیہم فرماتے ہیں کہ اگر تین سو پر ایک بکری بھی زیادہ ہوگی تو چار بکریاں واجب ہوں گی مگر پہلا قول زیادہ قوی ہے،ظاہری حدیث اسی کی تائید کررہی ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To