Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2288 -[2]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَه هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ الْغَفَّارُ الْقَهَّارُ الْوَهَّابُ الرَّزَّاقُ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْحَكَمُ الْعَدْلُ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ الْغَفُورُ الشَّكورُ العَلِيُّ الكَبِيرُ الحَفيظُ المُقِيتُ الْحَسِيبُ الْجَلِيلُ الْكَرِيمُ الرَّقِيبُ الْمُجِيبُ الْوَاسِعُ الْحَكِيمُ الْوَدُودُ الْمَجِيدُ الْبَاعِثُ الشَّهِيدُ الْحَقُّ الْوَكِيلُ الْقَوِيُّ الْمَتِينُ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ الْمُحْصِي الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الْمُحْيِي المُميتُ الحَيُّ القَيُّومُ الواجِدُ الماجِدُ الواحِدُ الأحَدُ الصَّمَدُ الْقَادِرُ الْمُقْتَدِرُ الْمُقَدِّمُ الْمُؤَخِّرُ الْأَوَّلُ الْآخِرُ الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْوَالِي الْمُتَعَالِي الْبَرُّ التَّوَّابُ الْمُنْتَقِمُ العَفُوُّ الرَّؤوفُ مَالِكُ الْمُلْكِ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ الْمُقْسِطُ الْجَامِعُ الْغَنِيُّ الْمُغْنِي الْمَانِعُ الضَّارُّ النَّافِعُ النُّورُ الْهَادِي الْبَدِيعُ الْبَاقِي الْوَارِثُ الرَّشِيدُ الصَّبُورُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والبيهقيُّ فِي الدَّعواتِ الْكَبِير. وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی کے ننانوے نام ہیں جو ان کی حفاظت کرے گا ۱؎ جنت میں جائے گا وہ اﷲ وہ ہے کہ اس کے سواء کوئی معبود نہیں،مہربان ہے،رحم والا ہے ۲؎ بادشاہ ہے،پاک ہے،عیوب سے سلامت ہے ۳؎ امن دینے والا ہے،نگہبان ہے غالب ہے۴؎  بدلہ کرنے والا ہے،بلند ہے ۵؎ پیدا کرنے والا،ایجاد فرمانے والا،صورت دینے والا ۶؎ گناہ بخشنے والا ۷؎ غالب ہے،دین ہار ہے ۸؎ روزی رساں ہے ۹؎ کھولنے والا،علم والا ۱۰؎ تنگی و فراخی دینے والا ۱۱؎ نیچا اونچا کرنے والا ۱۲؎ عزت و ذلت دینے والا ۱۳؎ سننے دیکھنے والا ۱۴؎ حکومت و انصاف والا ۱۵؎ مہربانی کرنے والا،خبر رکھنے والا ۱۶؎ حلم و عظمت والا ۱۷؎ بخشنے والا،قدر دان ۱۸؎ بلندی و بزرگی والا ۱۹؎ حفاظت فرمانے والا،قوت دینے والا ۲۰؎ حساب لینے والا،۲۱؎ دعائیں قبول کرنے والا،فراخی دینے والا ۲۲؎ حکمت والا،بزرگی والا،اٹھانے والا ۲۳؎ حاضر۲۴؎ دائم کار ساز ۲۵؎ قوت و استواری والا ۲۶؎  مددگار لائق تعریف ۲۷؎ سب کو جاننے والا شروع کرنے والا،لوٹانے والا ۲۸؎ زندگی و موت بخشنے والا ۲۹؎زندہ ہمیشہ قائم ر کھنے والا ۳۰؎ وجود ہستی والا بزرگی والا ۳۱؎ ایک اکیلا ۳۲؎ لائق بھروسہ ۳۳؎ قدرت و قوت اقتدار والا ۳۴؎ آگے پیچھے کرنے والا ۳۵؎ سب سے پہلے سب سے آخر ۳۶؎ کھلا چھپا ۳۷؎ مددگار عظمت والا احسان فرمانے والا۳۸؎      توبہ قبول کرنے والا بدلہ لینے والا معافی دینے والا  ۳۹؎ رافت والا ملک کا مالک ۴۰؎ غضب و کرم والا ۴۱؎ انصاف والا جمع فرمانے والا بے پرواہ اور بے پرواہ کرنے والا ۴۲؎ دینے والا نہ دینے والا نفع نقصان کا مالک ۴۳؎ روشن کرنے والا ہدایت دینے والا ۴۴؎ بے مثال ہمیشہ باقی وارث ۴۵؎ ہدایت دینے والا صبر والا ۴۶؎ (ترمذی)بیہقی دعوات کبیر ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۴۷؎

۱؎ چونکہ رب تعالٰی کے صفات و افعال بہت ہیں اس لیے اس کے نام بھی بہت ہیں،نیز اس کے بندوں کی حاجتیں بہت ہیں لہذا رب کے نام بھی بہت کہ بندہ جو حاجت لے کر آئے اسی نام سے اسے پکارے،بیمار پکارے یا شافی الامراض،گنہگار پکارے یا غفار،بدکار پکارے یا ستار وغیرہ۔خیال رہے کہ جتنے نام رب کے ہیں اتنے ہی نام رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے بھی ہیں جیساکہ کتب تصوف دیکھنے والوں پر ظاہر ہے۔

۲؎  ان ناموں میں رب تعالٰی کے بہت سے مشہور نام نہیں آئے جیسے قدیم،وتر،شدید،کافی رب اکرم،اعلیٰ،اکرم الاکرمین، ذوالعرش المجید،فعال لما یرید،مالك یوم الدین،رفیع الدرجات،ذوالقوۃ المتین،ذوالعرش،ا حسن الخالقین وغیرہ وغیرہ۔اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالٰی کے کل نام یہ نہیں ہیں جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔رحمٰن کے معنے ہیں دنیا میں تمام بندوں پر رحم



Total Pages: 441

Go To