We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

کتاب أسماء  ﷲ تعالٰی

اﷲ تعالٰی کے ناموں کابیان   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  اﷲ تعالٰی کے بہت نام ہیں جن میں سے ایک نام ذاتی ہے اﷲ،باقی نام صفاتی۔صفاتی نام تین قسم کے ہیں: صفت سلبی پر دلالت کرنے والے جیسے سبحان،قدوس،اولیٰ وغیرہ،صفت ثبوتیہ حقیقیہ پر دال جیسے علیم،قادر یا ثبوتیہ اضافیہ پر دال جیسے حمید،ملیك،مالك، الملك وغیرہ یا صفت فعلیہ پر دال جیسے رازق،خالق وغیرہ۔حق یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی کے نام توقیفی ہیں کہ شریعت نے جو بتائے ان ہی ناموں سے پکارا جائے اپنی طرف سے نام ایجاد نہ کئے جائیں اگرچہ ترجمہ ان کا صحیح ہو لہذا رب کو عالم کہہ سکتے ہیں عاقل نہیں کہہ سکتے،اسے جواد کہیں گے نہ کہ سخی،حکیم کہیں گے نہ کہ طبیب،خدا رب کانام نہیں بلکہ ایک صفت یعنی مالک کا ترجمہ ہے جیسے پروردگار،پالنہار،بخشنے والا وغیرہ۔خدا تعالٰی کے بعض نام مخلوق پربھی بولے جاتے ہیں جیسے رؤف،رحیم اﷲ کا نام بھی ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا بھی مگر مخلوق کے لیے ان ناموں کے اور معنے ہوں گے۔جب کسی صفت الٰہی کی تجلی بندے پر پڑتی ہے تو اس وقت اس پر وہ نام بولاجاتاہے۔

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو ۱؎ جو ان ناموں کی محافظت کرے جنت میں جائے گا ۲؎ اور ایک روایت یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی طاق ہے طاق کو پسندکرتا ہے۳؎ ہے۔ (مسلم،بخاری)

2287 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ» . وَفِي رِوَايَة: «وَهُوَ وتر يحب الْوتر»

۱؎ حق تعالٰی کے دو سو ایک نام دلائل الخیرات شریف میں بیان ہوئے ہیں اور مدارج النبوت میں شیخ نے رب تعالٰی کے ایک ہزار نام گنائے،یہاں تو ننانوے نام وہ گنائے گئے جن کا یادکرنا جنتی ہونے کا ذریعہ ہے کل نام یہ نہیں ہیں۔ان ناموں میں سے بعض ذاتی ہیں،بعض صفاتی،بعض افعالی لہذا اس حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ حق تعالٰی کے نام ننانوے سے زیادہ ہیں اور نہ یہ کہ رب کی صفات کمالیہ تو آٹھ ہیں پھر صفاتی نام زیادہ کیوں ہوئے۔

۲؎  یعنی جو مسلمان یہ نام یادکرے اور روزانہ ان کا ورد کیا کرے وہ ان شاءاﷲ اول ہی سے جنت میں جائے گا۔

۳؎ یعنی حق تعالٰی ذات و صفات میں وحدہٗ لاشریك ہے،وہ ان اعمال کو پسند فرماتا ہے جن میں اخلاص ہو،شرک کا شائبہ نہ ہو اور اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو دنیا سے کٹ کر اس کا ہورہے،غرضکہ دوسرے وتر میں بہت احتمالات ہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2288 -[2]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَه هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ الْغَفَّارُ الْقَهَّارُ الْوَهَّابُ الرَّزَّاقُ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْحَكَمُ الْعَدْلُ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ الْغَفُورُ الشَّكورُ العَلِيُّ الكَبِيرُ الحَفيظُ المُقِيتُ الْحَسِيبُ الْجَلِيلُ الْكَرِيمُ الرَّقِيبُ الْمُجِيبُ الْوَاسِعُ الْحَكِيمُ الْوَدُودُ الْمَجِيدُ الْبَاعِثُ الشَّهِيدُ الْحَقُّ الْوَكِيلُ الْقَوِيُّ الْمَتِينُ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ الْمُحْصِي الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الْمُحْيِي المُميتُ الحَيُّ القَيُّومُ الواجِدُ الماجِدُ الواحِدُ الأحَدُ الصَّمَدُ الْقَادِرُ الْمُقْتَدِرُ الْمُقَدِّمُ الْمُؤَخِّرُ الْأَوَّلُ الْآخِرُ الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْوَالِي الْمُتَعَالِي الْبَرُّ التَّوَّابُ الْمُنْتَقِمُ العَفُوُّ الرَّؤوفُ مَالِكُ الْمُلْكِ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ الْمُقْسِطُ الْجَامِعُ الْغَنِيُّ الْمُغْنِي الْمَانِعُ الضَّارُّ النَّافِعُ النُّورُ الْهَادِي الْبَدِيعُ الْبَاقِي الْوَارِثُ الرَّشِيدُ الصَّبُورُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والبيهقيُّ فِي الدَّعواتِ الْكَبِير. وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی کے ننانوے نام ہیں جو ان کی حفاظت کرے گا ۱؎ جنت میں جائے گا وہ اﷲ وہ ہے کہ اس کے سواء کوئی معبود نہیں،مہربان ہے،رحم والا ہے ۲؎ بادشاہ ہے،پاک ہے،عیوب سے سلامت ہے ۳؎ امن دینے والا ہے،نگہبان ہے غالب ہے۴؎  بدلہ کرنے والا ہے،بلند ہے ۵؎ پیدا کرنے والا،ایجاد فرمانے والا،صورت دینے والا ۶؎ گناہ بخشنے والا ۷؎ غالب ہے،دین ہار ہے ۸؎ روزی رساں ہے ۹؎ کھولنے والا،علم والا ۱۰؎ تنگی و فراخی دینے والا ۱۱؎ نیچا اونچا کرنے والا ۱۲؎ عزت و ذلت دینے والا ۱۳؎ سننے دیکھنے والا ۱۴؎ حکومت و انصاف والا ۱۵؎ مہربانی کرنے والا،خبر رکھنے والا ۱۶؎ حلم و عظمت والا ۱۷؎ بخشنے والا،قدر دان ۱۸؎ بلندی و بزرگی والا ۱۹؎ حفاظت فرمانے والا،قوت دینے والا ۲۰؎ حساب لینے والا،۲۱؎ دعائیں قبول کرنے والا،فراخی دینے والا ۲۲؎ حکمت والا،بزرگی والا،اٹھانے والا ۲۳؎ حاضر۲۴؎ دائم کار ساز ۲۵؎ قوت و استواری والا ۲۶؎  مددگار لائق تعریف ۲۷؎ سب کو جاننے والا شروع کرنے والا،لوٹانے والا ۲۸؎ زندگی و موت بخشنے والا ۲۹؎زندہ ہمیشہ قائم ر کھنے والا ۳۰؎ وجود ہستی والا بزرگی والا ۳۱؎ ایک اکیلا ۳۲؎ لائق بھروسہ ۳۳؎ قدرت و قوت اقتدار والا ۳۴؎ آگے پیچھے کرنے والا ۳۵؎ سب سے پہلے سب سے آخر ۳۶؎ کھلا چھپا ۳۷؎ مددگار عظمت والا احسان فرمانے والا۳۸؎      توبہ قبول کرنے والا بدلہ لینے والا معافی دینے والا  ۳۹؎ رافت والا ملک کا مالک ۴۰؎ غضب و کرم والا ۴۱؎ انصاف والا جمع فرمانے والا بے پرواہ اور بے پرواہ کرنے والا ۴۲؎ دینے والا نہ دینے والا نفع نقصان کا مالک ۴۳؎ روشن کرنے والا ہدایت دینے والا ۴۴؎ بے مثال ہمیشہ باقی وارث ۴۵؎ ہدایت دینے والا صبر والا ۴۶؎ (ترمذی)بیہقی دعوات کبیر ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۴۷؎

 



Total Pages: 441

Go To