Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۴؎ یعنی پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں،پانچ سائمہ اونٹوں میں ایک بکری واجب ہے،دس اونٹوں میں دو بکریاں،پندرہ میں تین اور بیس میں چار۔خیال رہے کہ اونٹ کا یہ نصاب پانچ ہے اور زیادتی معافی ہے لہذا اگرکسی کے پاس نو اونٹ تھے اور زکوۃ دینے کے وقت چار ہلاک ہوگئے تب بھی پوری بکری ہی دے گا اس سے کچھ کم نہ کرے گا،یہی حق ہے اسی پر فتویٰ ہے۔

۵؎  یعنی چوبیس تک اونٹوں کی زکوۃ بکریاں سے دی جائے گی کہ ہر پانچ میں ایک بکری اور اس کے بعد خود اونٹ سے ہی دی جائے گی اور زکوۃ میں اونٹ کی مادہ لی جائے گی نہ کہ غیر۔بنت مخاض وہ اونٹنی ہے جو ایک سال کی ہوکر دوسرے سال میں قدم رکھ دے،چونکہ اس وقت اس کی ماں دوسرے بچے سے حاملہ ہوجاتی ہے اس لیے اسے بنت مخاض کہتے ہیں یعنی حاملہ کی بچی۔مخاض حمل کو بھی کہتے ہیں اور دردزہ کو بھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاَجَآءَہَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ"یعنی حضرت مریم کو ان کا حمل یا درد زہ درخت کھجور کے پاس لایا۔

۶؎  یعنی بکریوں کی حالت میں پانچ پر نصاب بڑھتا تھا اور اب دس پر بڑھے گا۔بنت لبون وہ دو سالہ اونٹنی ہے جو تیسرے سال میں قدم رکھ دے،چونکہ اس وقت اس کی ماں دوسرے بچے کو دودھ پلاتی ہوتی ہے اس لیے اسے بنت لبون کہتے ہیں یعنی دودھ پلانے والی کی بچی۔لبون لبن سے ہے،بمعنی دودھ۔

۷؎ یعنی چھیالیس سے ساٹھ اونٹوں کی زکوۃ تین سالہ اونٹنی ہے جو چوتھے سال میں داخل ہوجائے،چونکہ اس وقت اونٹنی بوجھ اٹھانے کے لائق بھی ہوجاتی ہے اور نر کی جفتی کی مستحق بھی اس لیے اسے حقہ کہتے ہیں یعنی مستحق جفتی،اسی سے حقیق ہے،بمعنی لائق، رب تعالٰی فرماتاہے:"حَقِیۡقٌ عَلٰۤی اَنۡ لَّاۤ اَقُوۡلَ عَلَی اللہِ اِلَّا الْحَقَّ

۸؎ یعنی اس نصاب میں وہ اونٹنی واجب ہوگی جو پانچ کی ہوکر چھٹے سال میں قدم رکھ دے۔خیال رہے کہ جذع کے معنے ہیں اگنا اسی لیے درخت کی جڑ کو جذع کہتے ہیں کہ اس پر شاخیں اُگتی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاَجَآءَہَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ"۔چونکہ اس وقت اونٹنی کے سارے دانت اگ آتے ہیں اس لیے اسے جذع کہا جاتا ہے۔

۹؎  ان عبارات سے پتہ لگ رہا ہے کہ دو نصابوں کے بیچ کی کسروں میں کچھ واجب نہیں لہذا اگر ان میں سے کچھ گھٹ جائے تو زکوۃ گھٹے گی نہیں۔

۱۰؎  فتح القدیر میں ہے کہ زکوۃ کے نصاب نماز کی رکعتوں کی طرح توقیفی چیز ہیں جن میں عقل کو دخل نہیں۔خیال رہے کہ اونٹ کی زکوۃ میں صرف مادہ یا اس کی قیمت لی جائے گی،گائے اور بکریوں کی زکوۃ میں مادہ اور نر دونوں لیے جاسکتے ہیں۔

۱۱؎  اس کے ظاہری معنی پر بہت سے علماء کا عمل ہے کہ وہ ایک سو بیس اونٹوں کے بعد چالیس تک زکوۃ میں کچھ زیادتی نہیں کرتے،چالیس پر ایک بنت لبون بڑھاتے ہیں مگر امام نخعی اور سفیان ثوری اور امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہم ایک سوبیس اونٹوں کے بعد پھر پہلے کی طرح زکوۃ میں زیادتی کرتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ ان کے ہاں ایک سوپچیس اونٹوں میں دو حقے ایک بکری اورایک سوتیس میں دو حقے دو بکریاں اسی طرح پہلی ترتیب کی مطابق زیادتی ہوگی،ان بزرگوں کی دلیل وہ حدیث ہے جو سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب اونٹ ایک سوبیس سے زیادہ ہوجائیں تو"ترد الفرائض الی اولہا"اور وہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو ابن حزم کو زکوۃ،دیّتوں وغیرہ کا فرمان نامہ لکھ کردیا جس میں اونٹ کی زکوۃ کے بارے میں



Total Pages: 441

Go To