Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

لَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحْزَنُوۡا وَ اَبْشِرُوۡا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمْ تُوۡعَدُوۡنَ"۔یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے،خیال رہے کہ ذاکروں کو مرتے وقت جنت دکھائی جاتی ہے اور عاشقوں کو نزع میں محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کا جمال دکھاتے ہیں جس سے میت شدت نزع بالکل محسوس نہیں کرتا،جیسے مصری عورتوں کو جمال یوسفی دیکھ کر ہاتھ کٹنے کا درد محسوس نہ ہوا۔

۴؎ کیونکہ ذکر اﷲ کی برکت سے انسان کو عذاب سے امن ملتی ہے اور جانوروں کو بھی لہذا ذاکر سے سب ہی فائدہ اٹھاتے ہیں اس لیے ان سب کی بقدر اسے ثواب ملتا ہے۔

2284 -[24]

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: مَا عَمِلَ الْعَبْدُ عَمَلًا أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں بندے نے بڑا کوئی ایسا عمل نہ کیا،جو ذکر اﷲ سے بڑھ کر عذاب الٰہی سے نجات دے ۱؎ (مالک،ترمذی،ابن ماجہ)۲؎

۱؎ معلوم ہوا کہ ذکر اﷲ دفع عذاب کے لیے اکسیر ہے،اسی لیے بعد موت میت کو زیادہ تر ختم شریف وغیرہ کا ثواب پہنچاتے ہیں کہ اگر میت عذاب میں ہو تو اس ذکر کی برکت سے نجات پا جائے ذکر اﷲ یہاں مطلق فرمایا گیا،خواہ انسان خود کرے یا کوئی دوسرا ذکر کرکے اسے بخشے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر بار ہ ہزار بار کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کو بخشا جائے،تو اسے عذاب سے رہائی ملتی ہے اسے مولوی محمد قاسم صاحب دیوبندی نے بھی اپنی کتاب تحذیر الناس میں نقل فرمایا ہم بھی پہلے بحوالہ مرقات عرض کرچکے ہیں کہ حدیث اگرچہ موقوف ہے مگر مرفوع کے حکم میں ہے جیسا کہ محدثین کا قاعدہ ہے۔

 ۲؎ یہ حدیث احمد طبرانی،ابن ابی شیبہ نے مرفوعًا روایت کی۔

2285 -[25]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: أَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا ذَكَرَنِي وتحركت بِي شفتاه ". رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے میں اپنے بندے کے ساتھ رہتا ہوں جب کہ وہ میرا ذکر کرتا ہے اور میرے نام سے اس کے ہونٹ ہلتے ہیں ۱؎ (بخاری)

۱؎ یعنی جب تک بندہ میرا ذکر چپتا رہتا ہے میں رحمت کرم سے ،محبت سے، توفیق خیر سے اس کے ساتھ رہتا ہوں۔ خیال رہے کہ خدا تعالٰی ربوبیت سے ہر بندے کے ساتھ ہے قہر و غضب سے بے دینوں کے ساتھ ہے رحمت عامہ سے ہر مؤمن کے ساتھ ہے رحمت خاصہ سے ہر ذاکر کے ساتھ ہے اور اپنے نور و تجلی سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ساتھ ہونے میں بہت وسعت ہے یہ ہمراہیاں قرآن کریم کی مختلف آیتوں میں مذکور ہیں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ذاکرین کے پاس رہنا خدا تعالٰی کے پاس رہنا ہے۔

2286 -[26]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لِكُلِّ شَيْءٍ صِقَالَةٌ وَصِقَالَةُ الْقُلُوبِ ذِكْرُ اللَّهِ وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَنْجَى مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ» قَالُوا: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلَا أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى يَنْقَطِعَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور فرماتے تھے کہ ہر چیز کی صیقل ہے اور دلوں کی صیقل اﷲ کا ذکر ہے ۱؎ اور کوئی چیز ذکر اﷲ سے بڑھ کر عذابِ الٰہی سے نجات نہیں دیتی صحابہ نے عرض کیا کہ نہ اﷲ کی راہ میں جہاد فرمایا بلکہ نہ یہ کہ غازی اپنی تلوار سے کفار کو مارے حتی کہ تلوار ٹوٹ جائے ۲؎(بیہقی،دعوات کبیر)

 



Total Pages: 441

Go To