We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

چوں بصاحب دل رسی گوہر شوی،غرضکہ دل کے لیے آگ عشق تو نرم کرنے والی چیز ہے،صحبت نیک عمدہ سانچہ ہے۔نگاہ مرد کامل کاریگر کا ہنر ہے ان تین چیزوں سے قلب کچھ کار آمد بنتا ہے۔

2277 -[17]

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَب وَالْفِضَّة)كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ:نَزَلَتْ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ لَوْ عَلِمْنَا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ فَنَتَّخِذَهُ؟ فَقَالَ: «أَفْضَلُهُ لِسَانٌ ذَاكِرٌ وَقَلْبٌ شَاكِرٌ وَزَوْجَةٌ مُؤْمِنَةٌ تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں الخ تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے بعض صحابہ نے فرمایا کہ سونے چاندی کے متعلق تو یہ آیت نازل ہوگئی ۱؎ اگر ہمیں پتہ لگ جاتا کہ کون سا مال اچھا ہے تو ہم وہ ہی جمع کرتے ۲؎ حضور نے فرمایا بہترین مال ذاکر زبان شاکر دل اور مؤمنہ بیوی ہے جو ایمان میں اس کی مدد کرے ۳؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)

۱؎ یعنی اس آیت سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ سونا چاندی جمع کرنا دوزخ کا ذریعہ ہے اور ان چیزوں کے بغیر دنیاوی کام چلتا نہیں اب کیا کریں۔

۲؎ اور ضرورت کے وقت اسی سے کام نکالتے کہ دنیاوی ضروریات بغیر مال پوری نہیں ہوتیں۔یہ حضرا ت غالبًا یہ سمجھے تھے کہ مطلقًا سونا چاندی جمع کرنا حرام ہے،حالانکہ آیت میں زکوۃ نہ دینے والوں کا ذکر ہے انہی کی برائی بیان ہورہی ہے۔

۳؎ یہ جواب حکیمانہ ہے کہ سائلین نے مال کے متعلق سوال کیا تھا مگر جواب میں وہ چیز ارشاد ہوئی جو مال سے بھی زیادہ مفید ہے کیونکہ مال سے جسم کا نفع ہے اور ان چیزوں سے روح و ایمان کو فائدہ ۔خیال رہے کہ ایمان سے مراد دینی کام ہیں یعنی وہ بیوی جو مرد کو زنا،چوری،بدکاری،جوئے وغیرہ سے بچائے،نماز و روزے کا پابند بنادے،وہ بیوی بھی اﷲ کی رحمت ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2278 -[18]

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مَا أَجْلَسَكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ قَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ قَالُوا: آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا غَيْرُهُ قَالَ: أما إِنِّي لم أستحلفكم تُهْمَة لكم وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «مَا أَجْلَسَكُمْ هَاهُنَا» قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ بِهِ علينا قَالَ: " آالله مَا أجلسكم إِلَّا ذَلِك؟ قَالُوا: آالله مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ قَالَ: «أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَة» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ مسجد میں ایک حلقہ پرگزرے ۱؎ پوچھا تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھایا ہے وہ بولے ہم اﷲ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں ۲؎ فرمایا کیا خدا کی قسم تمہیں اسی چیز نے بٹھایا ہے بولے اﷲ کی قسم ہمیں اس کے سوا کسی اور چیز نے نہ بٹھایا ۳؎ فرمایا میں نے تم پر تہمت کی بنا پر تم سے قسم نہ لی۴؎ ایسا کوئی نہیں جسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے مجھ جیسا قرب ہو۵؎ پھر وہ آپ سے احادیث مقابلہ کرے کم روایت کرے ایک بار رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ کے ایک حلقہ پرتشریف لائے تو پوچھا تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھایا وہ بولے ہم اﷲ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں اس کا شکر کررہے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی ہم پر بڑا احسان کیا ۶؎ فرمایا کیا خدا کی قسم تمہیں صرف اس چیز نے بٹھایا ہے وہ بولے اﷲ کی قسم ہم کو اس کے سواءکسی اور چیز نہ بٹھایا فرمایا میں نے تم پر تہمت رکھتے ہوئے تم سے قسم نہ لی ۷؎ لیکن میرے پاس جبریل آئے انہوں نے مجھے بتایا کہ اﷲ تم سے فرشتوں پر فخر کررہا ہے ۸؎(مسلم)

 



Total Pages: 441

Go To