Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

میں بیٹھو اور جب بھی سونے کے لیے بستر پر دراز ہو تو اﷲ کا ذکر ضرور کرلو ورنہ کل قیامت میں ان اوقات کے ضائع ہو جانے پر کف افسوس ملو گے۔ بعض لوگ ہر وقت درود شریف پڑھتے رہتے ہیں ا ن کی اصل یہ حدیث ہے،مؤمن کی کوئی حالت ذکر اﷲ سے خالی نہ چاہیئے۔

2273 -[13]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ عَلَيْهِمْ حَسرَةً» . رَوَاهُ أحمدُ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی کوئی قوم یا جماعت نہیں جو کسی مجلس سے بغیر اﷲ کا ذکر کئے اٹھ جائے مگر وہ مردار گدھے کی مثل سے اٹھتے ہیں ۱؎ اور یہ ان پر حسرت ہوتی ہے۔(احمد،ابوداؤد)

۱؎ یعنی گویا یہ غافل لوگ مردار گدھا کھا کر اٹھے جو پلید بھی ہے اور حقیر بھی اور اپنی زندگی میں حماقت میں مشہور بھی ہے اور شیطان کا مظہر بھی کہ اس کے بولنے پر لاحول پڑھی جاتی ہے۔غرضکہ اﷲ کے ذکر سے خالی مجلسیں مردار گدھے کی طرح ہیں اور ان میں شرکت کرنےوالے اس مردارکےکھانے والےہیں۔الحمدﷲ مؤمن کی کوئی مجلس اﷲ کے ذکر سے خالی نہیں ہوتی وعدے پر ان شاءاﷲ کہتا ہے چھینک پر الحمدﷲ،جمائی پر لاحول ولاقوۃ الاباﷲ،غم کی خبر پر انا ﷲ۔غرضکہ بات بات پر اﷲ تعالٰی کا نام لیتا ہے،درود ہو اس دافع شرجن و انس پر،صلوۃ ہو اس غمخوار امت پر جس نے ہماری زندگی سنبھال دی اور ہماری مجلسیں اﷲ کے ذکر سے آباد کردیں۔صلی اللہ علیہ وسلم۔

2274 -[14]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں بیٹھی کوئی قوم کسی مجلس میں نہ تو اﷲ کا ذکر کرے اور نہ اپنے نبی پر درود پڑھے ۱؎ مگر یہ مجلس ان پر حسرت ہو گی اگر رب چاہے انہیں اس پر عذاب دے اور اگر چاہے بخش دے ۲؎(ترمذی)

۱؎ اگرچہ ذکر اﷲ میں درود شریف بھی داخل تھا مگر چونکہ درود شریف ذکر اﷲ کی بہترین قسم ہے اس لیے اس کا ذکر خصوصیت سے کیا گیا کیونکہ درود پاک میں اﷲ تعالٰی کا نام بھی ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا چرچہ بھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو ان کی آل اولاد کو دعائیں بھی۔

۲؎ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ عمومًا مجلسوں میں جھوٹ غیبت وغیرہ گناہ ہوجاتے ہیں،اگر ان میں حمد و صلوۃ وغیرہ بھی ہوتی رہے تو اس کی برکت سے یہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اگر مجلس ان خیر ذکروں سے خالی ہو تو گناہ تو پایا گیا،کفارہ نہ ادا ہوا لہذا اب پکڑ اور سزا کا سخت اندیشہ ہے۔مرقات نے فرمایا کہ اس جملہ میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے:"وَلَوْاَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ" الایہ۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر بھی معافی گناہ کا ذریعہ ہے اس جملہ سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مجلس میں اﷲ رسول کا ذکر ہو تو اس کے گناہ یقینًا بخشے جائیں گے رب تعالٰی کا وعدہ ہے۔ـ

2275 -[15]

وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ كَلَامِ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ لَا لَهُ إِلَّا أَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ أَوْ ذِكْرُ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

روایت ہے حضرت ام حبیبہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے انسان کا ہر کلام اس پر وبال ہے مفید نہیں ۱؎ سوائے اچھی باتوں کے حکم یا بری باتوں سے منع کرنے کے یا اﷲ کے ذکر کے ۲؎ ترمذی،ابن ماجہ،اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To