Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۷؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے بیان کا معجزہ تھا کہ آپ کے بیان سے عالم غیب گویا عالم شہادت بن جاتا تھا بعض علماء کی تقریر میں سامعین کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے واقعہ سامنے ہورہا ہے،بار ہا ذکر معراج،ذکر ہجرت وغیرہ میں ایسا دیکھا گیا ہے،یہ بیان و اخلاص کا کمال ہے۔

 ۸؎ بھول جانے سے مراد ہے توجہ تام نہ رہنا نہ کہ حفظ کا مقابل،لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ جب صحابہ کا حافظہ اتنا کمزور تھا کہ فورًا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان بھول جاتے تھے تو ان سے روایت حدیث کیونکر د رست ہوئی۔

 ۹؎ وفی الذکر کا واؤ عاطفہ ہے اور یہ جملہ ما کا بیان ہے اور ذکر سے مراد مشاہدہ و توجہ تام یعنی تمہارے قلب کا جو حال میر ی مجلس میں ہوتا ہے اور جو کشف و مشاہدہ تیقظ و بیداری یہاں ہوتی ہے،اگر ایسی ہی ہر وقت رہے۔

 ۱۰؎ یعنی تو فرشتے تم سے علانیہ طور پر ملاقاتیں مصافحے کیا کریں ورنہ صحابہ کرام سے فرشتے مصافحے بھی کرتے تھے اور ملاقاتیں بھی مگر دوسری شکلوں میں۔

 ۱۱؎ یعنی زندگی کی بعض گھڑیاں دینی انہماک کے لیے رہیں اور بعض گھڑیاں دنیاوی کاروبار کے لیے تاکہ دونوں جہاں آباد و قائم ر ہیں۔ایک ہندی شاعر نے کیا خوب کہا شعر

 تو دنیا میں ایسا ہو رہ جوں مرغابی ساگر میں                             ڈگر پہ اپنے ایسے جانا جوں چت ناری گاگر میں

مرغابی دریا میں آکر تیرنے والا جانور بن جاتی ہے اور ہوا میں پہنچ کر پرندہ،پہاڑی عورت دو گھڑے سر پر ایک گھڑ ابغل میں دوسرا ہاتھ میں لٹکائے اپنی سہیلیوں سے باتیں کرتی راستہ طے کرلیتی ہے،بیک وقت راستہ پر بھی نظر رکھتی ہے اور گھڑوں کا دھیان بھی اور سہیلی کی طرف توجہ بھی،ایسے ہی مسلمان مسجد میں پہنچ کر فرشتہ صفت بن جائے،بازار میں جا کر اعلیٰ درجہ کا تاجر،دنیاو دین دونوں کو سنبھالے،خالق و مخلوق سب کے حقوق ادا کرتا ہوا زندگی کا راستہ طے کرے،سبحان اﷲ! کیا نفیس تعلیم ہے ۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کی ہر ساعت اﷲ کے ذکر میں گزرتی ہے کہ دنیاوی کاروبار انہیں ذکر اللہ سے غافل نہیں کرتے اور بعض لوگوں کے ہاں تقسیم ہوتی ہے کہ بعض گھڑیاں رب تعالٰی کے ذکر میں اور بعض گھڑیاں دنیاوی مشغلہ میں،صحابہ کرام میں بھی انہیں دو قسم کے حضرات تھے حنظلہ دوسری جماعت سے تھے اس لیے ان سے یہ فرمایا گیا،اسی لیے حضرت حنظلہ سے خطاب فرمایا،صدیق اکبر سے خطاب نہ فرمایا کہ حضرت صدیق پہلی جماعت سے تھے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2269 -[9]

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ؟ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ؟ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذهبِ والوَرِقِ؟ وخيرٍ لكم مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «ذِكْرُ اللَّهِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّ مَالِكًا وَقفه على أبي الدَّرْدَاء

روایت ہے حضرت ابی الدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تمہیں ایسے بہترین اعمال نہ بتادوں جو رب کے نزدیک بہت ستھرے اور تمہارے درجے بہت بلند کرنے والے اور تمہارے لیے سونا چاندی خیرات کرنے سے بہتر ہوں ۱؎ اور تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہو کہ تم دشمن سے جہاد کرو کہ تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہیں شہید کریں صحابہ نے عرض کیا ہاں فرمایا وہ عمل اﷲ کا ذکر ہے ۲؎ (مالک،احمد، ترمذی،ابن ماجہ)مگر مالک نے یہ حدیث حضرت ابوالدرداء پرموقوف کی۳؎

 



Total Pages: 441

Go To