We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب ذکر اللہ عزوجل و التقرب الیہ

باب اﷲ عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  ذکرکے چند معنے ہیں:یاد کرنا،یاد رکھنا،اس کا چرچا کرنا،خیرخواہی عزت و شرف وغیرہ۔ قرآن کریم میں ذکر ان تمام معنوں میں وارد ہوا یہاں ذکر کے پہلے تین معنے ہوسکتے ہیں:یعنی اﷲ کو یادکرنا اسے یاد رکھنا اس کا چرچا کرنا اس کا نام جپنا۔ ذکر اﷲ تین قسم کا ہے:ذکر لسانی،ذکر جنانی، ذکر ارکانی،ہر عضو کا ذکر علیحدہ ہے،آنکھ کا ذکر ہے خوفِ خدا میں ر ونا، کان کا ذکر ہے اس کا نام سننا وغیرہ ذکر اﷲ بالواسطہ بھی ہوتا ہے اور بلاواسطہ بھی،اﷲ تعالٰی کی ذات و صفات کا تذکرہ یا انہیں سوچنا بلاواسطہ ذکر اﷲ ہے،اس کے محبوبوں کا محبت سے چرچا کرنا اس کے دشمنوں کا برائی سے ذکر کرنا سب بالواسطہ اﷲ کا ذکر ہیں۔دیکھو سارا قرآن ذکر اﷲ ہے مگر اس میں کہیں تو خدا کی ذات و صفات مذکور ہیں،کہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے اوصاف و محامد کہیں کفا رکے تذکرے۔ ذکر اﷲ بہترین عبادت ہے اسی لیے رب تعالٰی نے اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کاتاکیدی حکم دیا رب تعالٰی فرماتاہے: "فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"تم مجھے یاد کر و میں تمہیں یاد کروں گا مولانا فرماتے ہیں۔شعر

گر تو خواہی زیستن با آبرو                         ذکر  اُوکُن  ذکر  اُوکُن  ذکر  او

ہر گدا را ذکر او سلطان کند                       ذکر   اوبس   زیور   ایماں   بود

ہر کہ دیوانہ بود در ذکر حق                      زیر پائش عرش و کرسی نہ طبق

حضرات نقشبندیہ کے ہاں ذکر خفی افضل ہے دوسرے سلسلوں میں ذکر بالجہر بہتر،فریقین کے دلائل ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ کیجئے تقرب الی اﷲ سے مراد مکانی قرب نہیں کہ رب تعالٰی مکان و جگہ سے پاک ہے بلکہ قبولیت کا قرب مراد ہے مردود دور رہے محبوب درحضور۔

2261 -[1]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فَيْمَنْ عِنْدَهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرماتے رسول اﷲ نے ایسی کوئی جماعت نہیں جو اﷲ کے ذکر کے لیے بیٹھے ۱؎ مگر انہیں فرشتے گھیر لیتے ہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے ۲؎ ان پر سکینہ اترتا ہے ۳؎ اور اپنے پاس والے فرشتوں میں اﷲ ان کا ذکر کرتا ہے ۴؎(مسلم)

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ بیٹھنے سے مراد کھڑے ہونے کے مقابل ہے،لہذا اس جملہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ذکر اﷲ بیٹھ کر کرنا افضل ہے کہ اس میں سکون زیادہ ہوتا ہے۔دوسرے یہ کہ ذکر اﷲ جماعت میں کرنا افضل ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے ممکن ہے کہ بیٹھنے سے مراد ہمیشہ ذکر اﷲ کرنا ہو نیکی ہمیشہ کرنا افضل ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To