Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

و سلم نے نہ کیا یعنی یہ بدعت ہے تو حضرت صدیق نے فر مایا کہ واﷲ ھو خیر رب کی قسم یہ اچھا کام ہے۔یعنی بدعت حسنہ ہے،دوسرے خلاف سنت کام یہ بدعت ہمیشہ سیئہ اور بری ہی ہوگی،یہاں دوسرے معنے مراد ہیں کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے تو عمومًا سینہ تک ہاتھ اٹھائے اور تم عمومًا سر سے اونچے اٹھاتے ہو تو اس سنت کو چھوڑتے ہو،اس سے باز آجاؤ۔

۲؎  پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس سے عام دعائیں مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم عمومی دعاؤں میں کبھی ہاتھ کم اٹھاتے تھے کبھی زیادہ مگر زیادتی سینہ سے اوپر نہ ہوئی،لہذا یہ حدیث گزشتہ ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں کبھی سر سے اونچے ہاتھ اٹھانے کا ثبوت ہے۔

2258 -[36]

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا فَدَعَا لَهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيح

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی کا ذکر کرکے اسے دعا دیتے تو اپنی ذات سے دعا شروع کرتے ۱؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن،غریب صحیح ہے۔

۱؎ اس میں امت کو تعلیم ہے کہ تم جب کسی کے لیے دعا کرو تو پہلے اپنے لیے کرو پھر اس کے لیے صرف دوسرے کے لیے دعا کرنے میں اپنے استغنا اور بے نیازی کا شبہ ہوتا ہے،مگر یہ قاعدہ بھی اکثر یہ تھا کلیہ نہ تھا لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں وارد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا رحمۃ اﷲ   اللہ اس پر رحم کرے یا فرماتے"اللھم صل علی ابی اُبی اوفی"وغیرہ۔

2259 -[37]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ دَعْوَتَهُ وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عنهُ من السُّوءِ مثلَها " قَالُوا: إِذنْ نُكثرُ قَالَ: «الله أَكثر» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایسا کوئی مسلمان نہیں جو کوئی ایسی دعا مانگے جس میں نہ گناہ ہو نہ قطع رحمی ۱؎ مگر اﷲ تعالٰی اسے تین میں سے ایک ضرور دیتا ہے یا تو اس کی دعا یہاں ہی قبول کرلیتا ہے ۲؎ یا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ کردیتا ہے ۳؎ یا اس جیسی مصیبت ٹال دیتا ہے ۴؎ صحابہ نے عرض کیا تب تو ہم خوب زیادہ دعائیں کریں گے فرمایا رب کی عطا بہت زیادہ ہے۔۵؎(احمد)

۱؎ یعنی اس دعا میں نہ تو لازم گناہ ہو نہ متعدی،مثلًا کہے کہ فلاں اجنبیہ سے وصال نصیب کر یا مجھے دولت دے تاکہ میں اپنے عزیزوں کو اپنا غلام بنا کر رکھوں کہ ایسی دعائیں ممنوع ہیں۔

۲؎ کہ اس کی منہ مانگی مراد جلد یا کچھ دیر سے دے دیتا ہے۔

 ۳؎ کہ دنیا میں تو اس کی مراد پوری نہیں کرتا مگر آخرت میں اس کے عوض اس کے گناہ معاف فرمادے گا اس کے درجے بلند کردے گا۔

 ۴؎ معلوم ہوا کہ دعا سے رد بلا ہوتا ہے اس لیے مراد پوری نہ ہونے پر ملول نہ ہونا چاہیئے۔

 ۵؎ کہ اگر سارا جہاں ہمیشہ دعائیں مانگے تو رب تعالٰی کے ہاں سے محروم نہ ہوں گے مگر۔شعر

 



Total Pages: 441

Go To