Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2255 -[33]

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا فَرفع يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَة فِي «الدَّعْوَات الْكَبِير»

روایت ہے حضرت سائب ابن یزید سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب دعا مانگتے تو ہاتھ شریف اٹھاتے پھر ہاتھ منہ پر پھیر لیتے ۱؎ ان تینوں حدیثوں کو بیہقی نے دعوات کبیرہ میں نقل کیا۔

۱؎ یعنی جن دعاؤں میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ اٹھاتے تھے ان میں ہاتھ منہ پر پھیر لیتے تھے اور جن میں ہاتھ نہ اٹھاتے تھے جیسے نماز، طواف،کھانے کے بعد کی دعائیں ان میں ہاتھ منہ پر بھی نہ پھیرتے تھےلہذا اذا دعا،کان کا ظرف ہے نہ کہ خبر اس کی خبر  تو  مسح یدیہ ہے لہذا حدیث صاف ہے۔

2256 -[34]

وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: الْمَسْأَلَةُ أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ حَذْوَ مَنْكِبَيْكَ أَوْ نَحْوِهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ أَنْ تُشِيرَ بِأُصْبُعٍ وَاحِدَةٍ وَالِابْتِهَالُ أَنْ تَمُدَّ يَدَيْكَ جَمِيعًا وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: والابتهالُ هَكَذَا وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ ظُهُورَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُ

روایت ہے حضرت عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس سے راوی ہے کہ آپ نے فرمایا طریقہ دعایہ ہے کہ اپنے ہاتھ کندھوں کے مقابل یا اُن تک اٹھاؤ ۱؎ اور طریقہ استغفار یہ ہے کہ ایک انگلی سے اشارہ کرو ۲؎ اور عاجزی زاری طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ خوب پھیلادو ۳؎ اور ایک روایت میں فرمایا کہ زاری یوں ہے اور اپنے ہاتھ اٹھائے ہاتھوں کی پیٹھ چہرہ انورکے سامنے کی ۴؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی عام دعاؤں میں ہاتھ سینے تک اٹھانا سنت ہے کہ عادۃً بھکاری مانگتے وقت داتا کے سامنے یہاں تک ہی ہاتھ اٹھاتے اور پھیلاتے ہیں۔(لمعات)

 ۲؎ یعنی استغفار پڑھتے وقت اپنی کلمہ کی انگلی اپنے نفس کی طرف کرکے عرض کرے کہ یا اﷲ یہ نفس امارہ مجرم ہے اور یہ بندہ گنہگار حاضر ہے،بخش دے۔

۲؎  ابتھال کے معنے ہیں اظہار عجز اور انتہائی خشوع،اسی سے ہے مباہلہ،یہاں اس سے مراد دفع بلا کی دعا ہے،جیسے استسقاء میں قحط کے دفع ہونے کی دعا مانگی جاتی ہے ایسی دعاؤں میں ہاتھ سر سے اوپر اٹھانے چائیں۔

۴؎ یعنی ہاتھ پورے اٹھا دیئے جائیں حتی کہ ہاتھوں کی پیٹھ چہرے کی طر ف ہوجائے۔

2257 -[35]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ يَقُولُ: إِنَّ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ بِدْعَةٌ مَا زَادَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا يَعْنِي إِلَى الصَّدْر رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے ابن عمر سے وہ فرماتے تھے کہ تمہارا زیادہ ہاتھ اٹھانا بدعت ہے ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے زیادہ نہ اٹھائے یعنی سینہ تک ۲؎ (احمد)

۱؎ یعنی اے لوگو ں تمہارا ہر دعا میں سر سے اونچے ہاتھ اٹھانا اور دعاؤں میں فرق نہ کرنا کہ کس دعا میں اتنے اونچے ہاتھ اٹھائے جائیں یہ خلاف سنت ہے،اسے چھوڑ دینا چاہیئے،خیال رہے کہ بدعت کے ایک معنے تو ہیں نیا کام یعنی جو کام حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد ایجاد ہو،اس بدعت کی دو قسمیں ہیں،بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ،جس کی پوری بحث باب الاعتصام میں گزرچکی، جمع قرآن کے وقت بعض صحابہ نے حضرت ابوبکر صدیق سے عرض کیا تھا کہ آپ وہ کام کیوں کر رہے ہیں جو حضور انور صلی اللہ علیہ



Total Pages: 441

Go To