Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ شخصوں سے مراد مسلمان ہیں مرد ہوں یا عورت کفار اس میں داخل نہیں،دعا رد نہ ہونے کا وہ مطلب ہے جو پہلے عرض کیا جا چکا ہے،عطائے مدعی،رد بلا،رفع درجات۔

۲؎ کیونکہ یہ عبادت سے فراغت کا وقت ہے بعد عبادت دعائیں قبول ہوتی ہیں اس لیے نماز،حج،زکوۃ،سے فراغت پر دعائیں کرنا چاہیئے۔ معلوم ہوا کہ بعد نماز جنازہ بھی دعا کی جائے کہ وہ بھی رب کی عبادت ہے اور عبادت کے بعد دعا قبول ہے۔

۳؎ مرقات نے فرمایا کہ مسلمان حاکم کا ایک گھڑی عدل و انصاف کرنا ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے کہ اس عدل سے خلق خدا کا نظام قائم ہے۔

۴؎ مرقات نے فرمایا کہ مظلوم جانور بلکہ مظلوم کافر و فاسق کی بھی دعا قبول ہوتی ہے اگرچہ مسلمان مظلوم کی دعا زیادہ قبول ہے، کیونکہ مظلوم مضطرو بے قرار ہوتا ہے اور بے قرار کی دعا عرش پر قرار کرتی ہے رب فرماتاہے:"اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ"دعا کو بادلوں پر اٹھانے اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جانے کا مطلب بہت جلد سننا اور اس کی دعا کی عزت افزائی اور اہمیت کا اظہا ر فرمانا۔

۵؎  حین عربی میں مطلقًا وقت کو کہتے ہیں مگر اکثر کم سے کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ چالیس سال پر بولتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں حلیم ہوں،لہذا ظالم کو جلد نہیں پکڑتا۔اسے توبہ اور مظلوم سے معافی مانگنے کا وقت دیتا ہوں،اگر وہ اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھائے تو پکڑتا ہوں۔

2250 -[28]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٍ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْوَالِدِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ".رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین دعائیں بلا شبہ مقبول ہیں ۱؎ باپ کی دعا ۲؎ مسافر کی دعا ۳؎  اور مظلوم کی دعا(ترمذی ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ خیال رہے کہ پہلی حدیث میں تین دعا کرنے والوں کا ذکر تھا۔اور یہاں تین دعاؤں کا تذکرہ ہے،یعنی یہ تین دعائیں بذات خود قابل قبول ہیں اور اپنے فاعلوں کی برکت سے بھی لائق قبول،اسی لیے وہاں عدل اور روزے کا ذکر فرمایا جس میں فاعل بہ تکلف مشقت اٹھاتا ہے۔یہاں مسافر اور باپ کا ذکر ہے جس میں تکلف و مشقت نہیں۔(مرقات)

۲؎ اولاد کے حق میں باپ کی دعا قبول ہے اور بددعا بھی مگر چونکہ باپ اکثر دعائیں ہی دیتا ہے اس لیے دعاء کا ذکر فرمایا،والد سے مراد ماں باپ دونوں ہیں دادا بھی اس میں داخل ہے کہ بالواسطہ وہ بھی والد ہے ماں کی دعا بہت زیادہ قبول ہوتی ہے۔

۳؎  یوں تو مسافر کی بحالت سفر تمام دعائیں ہی قبول ہیں مگر اپنے محسن کے لیے دعا اور اپنے ستانے والے پر بددعا بہت قبول ہے۔ (مرقات)اسی طرح مظلوم کی بددعا قبول مگر ستانے والے کے لیے بددعا اور امداد کرنے والے یا بچانے والے کے لیے دعاء بہت قبول ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To