Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎   ایک اوقیہ۴۰ درہم کا پانچ اوقیہ۲۰۰ درہم ہوئے اور دس درہم سات مثقال کے اور ایک مثقال ساڑھے چار ماشہ کا اس حساب سے دو سو درہم باون تولہ چھ ماشہ ہوئے یہ چاندی کا نصاب ہے،درہم کی قیمت کا اعتبار نہیں وزن کا لحاظ ہے۔

۳؎  جانوروں کی زکوۃ کی تفصیل آگے آرہی ہے کہ پانچ اونٹوں میں ایک بکری واجب ہوتی ہے جب کہ وہ سائمہ ہوں یعنی سال کا اکثر حصہ جنگل میں چریں مالک پر ان کے چارے کا خرچ نہ ہو۔خیال رہے کہ ذود کے معنے ہیں عدد یا نفر،یہ تین سے دس تک بولا جاتا ہے۔

1795 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «لَيْسَ فِي عَبْدِهِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةُ الْفِطْرِ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمان پر  ۱؎  نہ تو اس کے غلام میں صدقہ واجب ہے نہ اس کے گھوڑے میں اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا اس کے غلام میں زکوۃ تو نہیں مگر صدقہ فطر واجب ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ مسلمان کی قید سے معلوم ہوتاہے کہ کفار پر زکوۃ فرض نہیں اسی لیے کوئی کافر مسلمان ہوجانے پر زمانہ کفر کی نہ نمازیں قضا کرتا ہے نہ زکوۃ دیتا ہے،ہاں قیامت میں کفار کو عبادات نہ کرنے کی بھی سزا ملے گی،رب تعالٰی فرماتا ہے کہ دوزخی کہیں گے"قَالُوۡا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیۡنَ"الخ لہذا حدیث و قرآن میں تعارض نہیں۔

۲؎  تجارتی گھوڑوں اور غلاموں میں تمام اماموں کے نزدیک زکوۃ ہے اور سواری کے گھوڑے اور خدمت کے غلام میں کسی کے ہاں زکوۃ نہیں ہاں جو گھوڑے سواری و تجارت دونوں کے لیے نہ ہوں ان کی مادہ میں امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک زکوۃ ہے کہ مالک یا تو فی گھوڑی ایک اشرفی دے دے یا اس کی قیمت کا چالیسواں حصہ نکال دے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں کیونکہ یہاں سواری کا گھوڑا اور خدمت کا غلام مراد ہے۔فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ گھوڑے اور غلام میں صاحبین کے مذہب پر فتویٰ ہے کہ ان میں زکوۃ نہیں اسی طرح مرقات میں ہے۔خیال رہے کہ خدمت کے غلام کا فطرہ مالک پر واجب ہے اس کی زکوۃ نہیں،نوکر چاکروں کا فطرہ آقا پر نہیں کیونکہ یہ اس کے غلام نہیں۔

1796 -[3]

وَعَن أنس بن مَالك: أَن أَبَا بكر رَضِي الله عَنهُ كَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرِينِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَالَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عز وَجل بهَا رَسُوله فَمن سَأَلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِ: فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِل فَمَا دونهَا خَمْسٍ شَاةٌ. فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى فَإِذَا بلغت سِتا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بنت لبون أُنْثَى. فَإِذا بلغت سِتَّة وَأَرْبَعين إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ فَإِذَا بَلَغَتْ وَاحِدَةً وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَة. فَإِذا بلغت سِتا وَسبعين فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ. فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ. فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ. وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا. فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةَ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْده جَذَعَة وَعِنْده حقة فَإِنَّهَا تقبل مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا. وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةَ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ الْحِقَّةُ وَعِنْدَهُ الْجَذَعَةُ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ. وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةَ الْحِقَّةِ وَلَيْسَت إِلَّا عِنْده بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ وَيُعْطِي مَعهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا. وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بنت لبون وَعِنْده حقة فَإِنَّهَا تقبل مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ. وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بَنْتَ لِبَوْنٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ مَخَاضٍ وَيُعْطَى مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ. وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بَنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ. فَإِنْ لَمْ تَكُنْ عِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْن لَبُونٍ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ. وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاة إِلَى عشْرين وَمِائَة شَاة فَإِن زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَان. فَإِن زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ. فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ. فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا. وَلَا تُخْرَجَ فِي الصَّدَقَة هرمة وَلَا ذَات عور وَلَا تَيْسٌ إِلَّا مَا شَاءَ الْمُصَدِّقُ. وَلَا يجمع بَين متفرق وَلَا يفرق بَين مُجْتَمع خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ. وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ الْعُشْرِ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

 

روایت ہے حضرت انس سے کہ حضرت ابوبکر نے جب انہیں بحرین بھیجا ۱؎ تو انہیں یہ فرمان نامہ لکھ کر دیا مہربان رحمت والے اﷲ کے نام سے یہ زکوۃ کا فریضہ ہے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض فرمایا اور جس کا اﷲ نے اپنے رسول کو حکم دیا ۲؎  تو جس مسلمان سے اس فہرست کے مطابق مانگا جائے وہ دے دے اور جس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے تو نہ دے۳؎ چوبیس اور اس سے کم اونٹوں کی زکوۃ بکری ہے کہ ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ۴؎ پھر جب یہ اونٹ پچیس کو پہنچیں تو پینتیس تک ایک سالہ مادہ اونٹنی ہے ۵؎  پھر جب چھتیس تک پہنچیں تو پینتالیس تک میں دو سالہ مادہ اونٹنی ہے ۶؎ پھر جب چھیالیس کو پہنچیں تو ساٹھ تک میں چار سالہ اونٹنی یعنی اونٹ کی جست کے لائق ۷؎ پھر جب اکسٹھ کو پہنچیں تو پچھتر تک میں ایک پنج سالہ اونٹنی ۸؎ پھر جب چھہتر کو پہنچیں تو نوے تک میں دو عدد دو سالہ اونٹنیاں ۹؎  پھر جب اکیانوے کو پہنچیں تو ایک سو بیس تک دو چارسالہ اونٹنیاں نر اونٹ کی جست کے لائق ۱۰؎ پھر جب ایک سو بیس سے زیادہ ہوں تو ہر چالیس میں ایک دو سالہ اونٹنی ہے اور ہر پچاس میں چار سالہ ۱۱؎ اور جس کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو اس میں زکوۃ نہیں ہاں اگر مالک چاہے ۱۲؎  جب پانچ کو پہنچیں تو اس میں ایک بکری ہے اور جس کے اونٹوں کی زکوۃ پنجسالہ اونٹنی تک پہنچے اور اس کے پاس پنجسالہ ہو نہیں بلکہ چار سالہ ہو تو اس سے چار سالہ ہی لے لی جائے اور اس کے ساتھ دو بکریاں اگر میسر ہوں یا بیس درہم۱۳؎  اور جس کے اونٹوں کی زکوۃ چہار سالہ کو پہنچے اور اس کے پاس چہار سالہ ہے ہی نہیں بلکہ پنجسالہ ہو تو اس سے پنجسالہ ہی وصول کرلی جائے اور زکوۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے ۱۴؎ اور جس کے اونٹوں کی زکوۃ چہار سالہ کو پہنچے مگر اس کے پاس دو سالہ ہی ہو تو اس سے دو سالہ ہی وصولی کرلی جائے اور مالک دو بکریاں یا بیس درہم بھی دے اور جس کی زکوۃ دو سالہ کو پہنچے مگر مالک کے پاس چہار سالہ ہو تو اس سے چہار سالہ ہی وصول کرلی جائے اور اسے عامل بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے اور جس کی زکوۃ دو سالہ کو پہنچے اور دو سالہ اس کے پاس ہو نہیں بلکہ اس کے پاس یکسالہ ہو تو اس سے یکسالہ ہی وصولی کرلی جائے اور اس کے ساتھ مالک بیس درہم یا دو بکریاں دے ۱۵؎ اور جس کی زکوۃ یکسالہ کو پہنچے اور اس کے پاس یکسالہ ہو نہیں بلکہ اس کے پاس دو سالہ ہو تو اس سے وہ ہی وصول کرلی جائے اور اس کو عامل بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے اور اگر مالک کے پاس زکوۃ کے مطابق یکسالہ مادہ ہو نہیں بلکہ اس کے پاس یکسالہ نر ہو تو اس سے وہ ہی لے لیا جائے اور اس کے ساتھ اور کچھ نہیں ۱۶؎  اور بکریوں کی زکوۃ میں ۱۷؎ یعنی جنگل میں چرنے والیوں میں  جب چالیس ہوں تو ایک سو بیس تک ایک بکری ہے ۱۸؎ پھر جب ایک سو بیس سے بڑھ جائیں تو دو سو تک میں دو بکریاں ہیں اور جب دو سو سے زیادہ ہوں تو تین سو تک میں تین بکریاں ہیں جب تین سو سے زیادہ ہوجائیں تو ہر سینکڑے میں ایک بکری ہے ۱۹؎ پھر جب کسی کی جنگل میں چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان میں زکوۃ نہیں لیکن اگر مالک چاہے تو(خیرات دیدے)۲۰؎  اور زکوۃ میں نہ تو بڑھیا دی جائے نہ کانی ۲۱؎  اور نہ بکرا مگر یہ کہ عامل چاہے(تولے لے)۲۲؎ اور نہ تو متفرق مال کو جمع کیا جائے اور نہ زکوۃ کے ڈر سے جمع مال کو متفرق کیا جائے۲۳؎  اور جو نصاب دو شریکوں کے درمیان ہو تو وہ آپس میں برابر برابر ایک دوسرے سے لے لیں۲۴؎ اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکوۃ ہے اور اگر صرف ایک سو نوے درہم ہوں تو ان میں کچھ زکوۃ نہیں مگر یہ کہ مالک چاہے(تو دیدے)۲۵؎(بخاری)

 



Total Pages: 441

Go To