Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2248 -[26]

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ فَأَذِنَ لِي وَقَالَ: «أَشْرِكْنَا يَا أُخَيُّ فِي دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا» . فَقَالَ كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِيَ بِهَا الدُّنْيَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَانْتَهَتْ رِوَايَتُهُ عِنْدَ قَوْلِهِ «لَا تنسنا»

روایت ہے حضرت عمر ابن الخطاب سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے عمرہ کے لیے جانے کی اجازت مانگی ۱؎ تو مجھے اجازت دی اور فرمایا اے میرے بھائی ۲؎ ہمیں بھی اپنی دعا میں یاد رکھنا ہمیں بھول نہ جانا ۳؎ حضور نے یہ ایسی بات فرمائی کہ مجھے اس کے عوض ساری دنیا مل جانا پسند نہیں۴؎ (ابوداؤد،ترمذی)اور ترمذی کی روایت اس قول پر ختم ہوگئی کہ ہمیں بھول نہ جانا۔

۱؎ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے عمرہ کی نذر مانی تھی جو پوری نہ کرسکے تھے کہ مسلمان ہوگئے،پھر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے مسئلہ پوچھا تو فرمایا نذر پوری کر و تب آپ عمرہ کے لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی اجازت سے روانہ ہوئے۔

۲؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے جو حضرت عمر کو بھائی فرمایا یہ انتہائی کرم کریمانہ ہے،جیسے سلطان اپنی رعایا سے کہے میں تمہارا خادم ہوں مگر کسی مسلمان کا حق نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو بھائی کہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمۡ بَعْضًا"الایہ۔اسی لیے کبھی صحابہ کرام نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو بھائی کہہ کر نہ پکارا،روایت حدیث میں تمام صحابہ یہ ہی کہتے تھے قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔

۳؎ یعنی مکہ معظمہ پہنچ کرہرمقبول دعا میں اپنے ساتھ میرے لیے بھی دعا کرنا معلوم ہوا کہ حاجی سے دعا کرانا اور وہاں پہنچ کر دعا کرنے کے لیے کہنا سنت ہے۔صوفیائے کرام اس جملہ کے معنے یہ کرتے ہیں کہ اے عمر ہر دعا میں ہم پر درود شریف پڑھنا ہمارے درود کو نہ بھولنا تاکہ اس کی برکت سے تمہاری دعائیں قبول ہوں حضور کے لیے اعلیٰ درجہ کی دعا آپ پر درود شریف پڑھنا ہے صلی اللہ علیہ وسلم کریم کے پیاروں کو دعائیں دینا درحقیقت اس سے مانگنے کی تدبیر ہے ہمارا بھکاری ہمارے دروازہ پر آکر ہمارے جان و مال اولاد کو دعائیں دیتا ہے ہم سے بھیک پاتا ہے۔ہم بھی رب تعالٰی کے محبوب کو دعائیں دیں رب تعالٰی سے بھیک لیں۔

۴؎ حضرت عمر کا یہ فرمان فخریہ نہیں بلکہ شکریہ کے طور پر ہے یعنی حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھائی کے خطاب سے نوازا۔معلوم ہوا کہ میں دنیا وآخرت میں صحیح مؤمن ہوں پھر مجھے حکم دعا کہ حضور کو دعائیں دوں۔معلوم ہوا کہ میرا منہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی دعا کے لائق ہے،پھر فرمایا مجھے بھولنا نہیں۔معلوم ہوا کہ میرا دل کاشانۂ یار بننے کے لائق ہے،یہ ایسی بشارتیں ہیں کہ تمام دنیا کی نعمتیں ان پرقربان ہیں۔

2249 -[27]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ وَالْإِمَامُ الْعَادِلُ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بعد حِين ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین شخصوں کی دعا رد نہیں ہوتی ۱؎ روزہ دار کی جب افطار کررہا ہو ۲؎ انصاف والے حاکم کی۳؎ اور مظلوم کی دعا کو تو اﷲ تعالٰی بادلوں کے اوپر اٹھا لیتا ہے۴؎ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور رب تعالٰی فرماتا ہے مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ دیر بعد سہی ۵؎(ترمذی)

 



Total Pages: 441

Go To