Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎ یعنی تم دل کے یقین سے دعا کرو اور عرض کرو کہ مجھے ضرور یہ عطا فرمادے رہی عطا وہ تو بہرحال اس کے کرم پر موقوف ہی ہے تم خود تو یقین قبول رکھو۔

2226 -[4]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ وَلْيُعَظِّمِ الرَّغْبَةَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَتَعَاظَمُهُ شيءٌ أعطاهُ ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب تم میں سے کوئی دعا مانگے تو یوں نہ کہے الٰہی اگر چاہے تو مجھے بخش دے لیکن عزم کرے اور خوب رغبت ظاہر کرے ۱؎ کیونکہ رب تعالٰی کے نزدیک کوئی چیز بڑی نہیں جو چاہے دیدے ۲؎ (مسلم)

۱؎ مثلًا کہے کہ خدایا یہ چیز مجھے ضرور دے دے مجھے اس کی ضرورت ہے میں تو تیرے دروازے سے لے کر ہی اٹھوں گا بتا تیرے سواء میرا دروازہ اور کون سا ہے،وغیرہ وغیرہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے یوں ہی مانگو۔شعر

اگر میرا نیم ازور بمن ہمسادرِ دیگر                             کراخوانم کجانا لم اغثنی یارسول

۲؎ یعنی جو چیز ہمارے لیے مشکل سے مشکل ہے وہ رب تعالٰی کو آسان ہے،اگر تمام جہان کی ساری تمنائیں پوری کردے تو یہ تمام اس کے سمندر کرم کا ایک قطرہ بلکہ اس سے بھی کم اس کے کن فرمادینے میں ہمارا بیڑا پارہے۔

2227 -[5]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ» . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الِاسْتِعْجَالُ؟ قَالَ: " يَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ وَقَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ أَرَ يُسْتَجَابُ لِي فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ وَيَدَعُ الدُّعاءَ ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بندے کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ مانگے ۱؎ جب تک کہ جلد بازی سے کام نہ لے عرض کیا گیا یارسول اﷲ جلد بازی کیا ہے فرمایا یہ کہ کہے میں نے دعا مانگی اور مانگی مگر مجھے امید نہیں کہ قبول ہو لہذا اس پر دل تنگ ہوجائے اور دعا مانگنا چھوڑ دے۲؎ (مسلم)

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ گناہ کی دعا نہ مانگے کہ خدایا مجھے شراب پینا نصیب کریا فلاں کو قتل کردینے کا موقع دے،نیز جن رشتوں کے جوڑنے کا حکم ہے ان کے توڑنے کی دعا نہ کرے کہ خدایا مجھے میرے با پ سے دور رکھ۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ ناممکن چیزوں کی دعا مانگنا بھی منع ہے جیسے خدا مجھے دنیا میں ان آنکھوں سے اپنا دیدار کرادے یا فلاں مسلمان کو ہمیشہ دوزخ میں رکھ یا فلاں کافر کو بخش دے اسی لیے کفار و مرتدین کو مرحوم مغفور یا رحمۃ اﷲ علیہ کہنا جرم ہے،مطلب حدیث کا یہ ہے کہ قبولیت دعا کی ایک شرط یہ ہے کہ ناجائز چیزوں کی دعا نہ کرے ورنہ قبول نہ ہوگی۔

۲؎ یعنی قبول دعا کی دوسری شرط یہ ہے کہ اگر قبول دعا میں دیر لگے تو نہ دل تنگ ہو نہ رب تعالٰی کی رحمت سے مایوس،دیکھو حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کی دعا کہ خدایا فرعون کو ہلاک کردے چالیس سال کے بعد قبول ہوئی یعنی قبول کا اظہار اتنے عرصہ بعد ہوا،یعقوب علیہ السلام فراق یوسف علیہ السلام میں چالیس یا اسی سال تک روئے مگر رب تعالٰی کی رحمت سے مایوس نہ ہوئے بلکہ اپنے بچوں سے فرمایا"وَلَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوْحِ اللہِ"اے بچو اﷲ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔غرضکہ ہر کام کا ایک وقت ہے،دعا مانگے جائے،مانگنا بندے کا کام ہے دینا رب تعالٰی کا کام اپنے کام کو اس کے کام پر موقوف نہ کیجئے۔شعر

 



Total Pages: 441

Go To