We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب مایجب فیہ الزکوۃ

باب کس چیز میں زکوۃ واجب ہے ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  خیال رہے کہ جانور،سونا چاندی اور تجارتی مالوں میں بالاتفاق زکوۃ واجب ہے،البتہ سبزیاں میوے جو سال تک نہ ٹھہرسکیں ان میں اختلاف ہے،امام اعظم کے ہاں ان میں مطلقًا زکوۃ ہے اور دیگر اماموں کے ہاں نہیں،نیز کھجوروں اور چھوہاروں وغیرہ میں امام اعظم کے ہاں مطلقًا زکوۃ واجب ہے خواہ کتنے ہی پیدا ہوں اور صاحبین کے ہاں جب پانچ وسق ہوں۔

1794 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ من الْإِبِل صَدَقَة»

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پانچ وسق چھوہاروں سے کم میں صدقہ واجب نہیں ۱؎ اور پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں صدقہ واجب نہیں۲؎ اور پانچ عدد اونٹوں سے کم میں صدقہ واجب نہیں۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ وسق،صاع،رطل عرب کے پیمانوں کے نام ہیں۔ایک وسق ساٹھ صاع کا ہے اور ایک صاع ہمارے ۸۰ تولے والے سیر سے قریبًا ساڑھے چار سیر ہوتا ہے تو اس حساب سے ایک وسق چھ من تیس سیر ہوا اور پانچ وسق ۳۳ من ۳۰ سیر تقریبًا ہوئے تو حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ قریبًا ۳۴ من سے کم میں زکوۃ نہیں،یہ حدیث امام شافعی وغیرہم کی دلیل ہے،امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے ہاں مطلقًا پیداوار میں زکوۃ ہے کم ہو یا زیادہ،امام اعظم کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے"وَمِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَکُمۡ مِّنَ الۡاَرْضِ"اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے"مَااَخْرَجَتْہُ الْاَرْضُ فَفِیْہِ الْعُشْرُ"اور بخاری کی وہ روایت ہے"فِیْمَا سَقَتِ السَّمَاءُ اَوِالْعُیُوْنُ اَوْکَانَ عَشَرِیَّا الْعُشْرُ وَفِیْمَا سُقِیَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ"اورمسلم شریف کی وہ روایت ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"فِیْمَا سَقَتِ الْاَنْھَارُ وَالْغَیْمُ الْعُشْرُ وَفِیْمَا سُقِیَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ"۔اس آیت اور احادیث میں مطلقًا ما فرمایا گیا یعنی جو بھی زمین سے پیدا ہو اس میں دسواں یا بیسواں حصہ زکوۃ ہے،نیز عبدالرزاق نے حضرت عمر ابن عبد العزیز مجاہد اور ابراہیم رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ یہ سب حضرات فرماتے ہیں:" فیما انبتت الارض من قلیل وکثیر العشر"زمین کی ہر تھوڑی بہت پیداوار میں دسواں حصہ ہے۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ غلہ وغیرہ کے تاجروں پر زکوۃ تجارت پانچ وسق سے کم میں نہ ہوگی کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک وسق کھجور کی قیمت چالیس درہم تھی تو پانچ وسق کی قیمت دو سو۲۰۰ درہم ہوئی،چاندی کا نصاب زکوۃ دوسو درہم ہی ہیں اور اگر مان بھی لیا جائے کہ اس حدیث میں پیدوار کی ہی زکوۃ مراد ہے تو احادیث متعارض ہوں گی اور تعارض کے وقت احتیاط اسی میں ہے کہ کم کی بھی زکوۃ نکالی جائے۔خیال رہے کہ زکوۃِ تجارت اور ہے زکوۃِ پیداوار اور۔اس کی پوری تحقیق فتح القدیر میں اور اسی جگہ مرقات میں دیکھو۔ خیال رہے کہ ان اماموں کے نزدیک سڑ گل جانے والے پھلوں اور سبزیوں میں بھی زکوۃ نہیں جو سال بھر ٹھہر سکے اس میں زکوۃ ہے۔امام اعظم کے نزدیک ان میں بھی زکوۃ ہے ان کے دلائل وہی ہیں جو ابھی مذکور ہوئے۔

 



Total Pages: 441

Go To