We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

کتاب الدعوات

دعاؤں کا بیان ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ دعوات دعوت کی جمع ہے بمعنی دعا،چھوٹے کا اپنے بڑے سے اظہار عجز کے ساتھ مانگنا دعا کہلاتا ہے چونکہ دعائیں صد ہا قسم کی ہیں اس لیے دعوات جمع بولا۔دعا مانگنا بھی ایک عبادت ہے بلکہ عبادات کا مغز ہے حدیث، بعض علماء دعا کو افضل کہتے ہیں،بعض رضاء بالقضاء کو مگر بہتر یہ ہے کہ زبان سے دعا مانگے اور دل میں رضاء رکھے کہ اگر دعا قبول نہ ہو تو ملول نہ ہو،اس صورت میں دعاء رضا دونوں پر عمل ہوگا،بعض حضرات فرماتے ہیں کہ عمومی حالات میں دعا مانگنا بہتر ہے کہ اس میں بندگی کا اظہار ہے، اسی لیے تمام انبیاء خصوصًا حضور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم نے دعائیں مانگی ہیں مگر بوقت امتحان رضا بالقضاء افضل ہے اسی لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نار نمرود میں جاتے وقت دعا نہ مانگی بلکہ حضرت جبریل کے عرض کرنے پر فرمایا "کفانی عن سوالی علمہ بحالی" لہذا دونوں قسم کے واقعات آپس میں متعارض نہیں(از لمعات مع زیادۃ)دعا و ترک دعا کی اور بھی توجہیں کی گئیں ہیں مگر یہ توجیہ بہت بہتر ہے احوال مختلف ہیں،جیسے حالت ویسا عمل۔

2223 -[1]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي إِلَى يومِ القِيامةِ فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا» . رَوَاهُ مُسلم وللبخاري أقصر مِنْهُ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر نبی کی ایک دعا خصوصًا قبول ہوتی ہے تو ہر نبی نے اپنی وہ دعا یہاں استعمال کرلی ۱؎ اور میں نے اپنی دعا روز قیامت کے لیے بچا رکھی اپنی امت کی شفاعت کے واسطے چنانچہ میری وہ دعا ان شاءاﷲ میرے ہر اس امتی کو پہنچے گی جو اس طرح مرے کہ رب تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو۲؎ (مسلم)اور بخاری میں کچھ مختصر ہے۔

۱؎ یعنی یوں تو انبیاء کرام کی قریبًا ساری دعائیں ہی قبول ہیں مگر رب تعالٰی کی طرف سے ہر نبی کو ایک خصوصی دعا عطا ہوتی ہے جس کے متعلق رب تعالٰی کا حتمی وعدہ ہوتا ہے کہ ہم ضرور قبول کریں گے تمام نبیوں نے اپنی اپنی دعائیں دنیا میں استعمال فرمالیں کسی بزرگ نے ہلاکت کفار کے لیے جیسے حضرت نوح،صالح،لوط و ہودعلیہم الصلوۃ والتسلیمات اور بعض انبیائے کرام نے کسی اور مقصد کے لیے استعمال فرمالیں جیسے حضرت ابراہیم اسماعیل یعقوب و یوسف علیہم الصلوۃ والسلام کسی بزرگ نے اپنی دعا کسی مقصد میں استعمالی فرمالی یہ بہت وسیع مضمون ہے۔(اشعۃ اللمعات)

۲؎ یعنی میں نے اپنی وہ دعا یہاں استعمال نہ کی بلکہ قیامت کے لیے اٹھا ر کھی ہے اس سے اپنی امت کی شفاعت کروں گا اور اسی کا فائدہ ہر وہ شخص اٹھائے گا جسے ایمان پر خاتمہ نصیب ہو۔ خیال رہے کہ ایسے موقع پر شرک نہ کرنے سے مراد کفر نہ کرنا ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ"الخ لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت مرزائیوں،چکڑالویوں وغیرہ مرتدین کو پہنچے گی کہ یہ لوگ مشرک تو نہیں۔

 



Total Pages: 441

Go To