We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

فرماتے ہیں نہیں یہ مراد نہیں بلکہ سات قرأتیں مراد ہیں کہ ان قرأتوں میں صرف حروف کی ہیئتوں میں فرق ہوتا ہے معانی و احکام وغیرہ میں فرق نہیں ہوتا۔ علماء اصول نے فرمایا کہ قرآن میں مطلق مفید،عام،خاص،نص،قول،ناسخ،منسوخ،مجمل مفسر وغیرہ ہیں، نحویوں نے کہا کہ اس میں ذکر،حذف،تقدیم،،تاخیر،استعارہ،تکرار،کنایہ،حقیقت و مجاز وغیرہ ہیں۔صوفیاء نے فرمایا کہ قرآن میں زہد و قناعت،یقین،حرف،خدمت،حیاء،کرم،مجاہدہ،مراقبہ،خوف،امید،رضاء،شکر و صبر محبت شوق،مشاہدہ وغیرہ ہیں،یہاں وہ مراد ہے،مگر امام زہری کا قول قوی ہے کہ یہاں سات قرأتیں مراد ہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2215 -[5]

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فَقَالَ: " يَا جِبْرِيلُ إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيِّينَ مِنْهُمُ الْعَجُوزُ وَالشَّيْخُ الْكَبِيرُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ قَالَ: يَا مُحَمَّد إِن الْقُرْآن أونزل عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ وَأَبِي دَاوُدَ: قَالَ: «لَيْسَ مِنْهَا إِلَّا شَافٍ كَافٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ لِلنَّسَائِيِّ قَالَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ أَتَيَانِي فَقَعَدَ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِي وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِي فَقَالَ جِبْرِيلُ: اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ قَالَ مِيكَائِيلُ: اسْتَزِدْهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَة أحرف فَكل حرف شاف كَاف "

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے جبریل امین نے ملاقات کی تو حضور نے فرمایا اے جبریل میں بے پڑھی جماعت کی طرف بھیجا گیا ہوں جن میں بوڑھی عورتیں بڑے بوڑھے بچے بچیاں اور وہ لوگ بھی جنہوں نے کبھی کوئی کتاب نہ پڑھی ہو۱؎ انہوں نے عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ قرآن سات قرأتوں پر اتارا گیا ہے ۲؎(ترمذی) اور احمد و ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے ان قرأتوں میں سے ہر قرأت شافی کافی ہے ۳؎ اور نسائی کی روایت میں ہے کہ فرمایا حضور انور نے جبریل و میکائیل میرے پاس آئے،جبریل تو میری داہنی جانب بیٹھ گئے اور میکائیل میری بائیں طرف ۴؎ جبریل بولے قرآن ایک قرأۃ پر تلاوت کیجئے حضرت میکائیل نے کہا یارسول اﷲ زیادتی کا مطالبہ فرماؤ،۵؎ حتی کہ سات قرأتوں تک پہنچ گئے ہر قرأت شافی کافی ہے ۶؎

۱؎ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم تاقیامت لوگوں کیے لیے آیا اور ان میں سب لائق و فائق ہی نہ ہوں گے بلکہ ہر قسم کے لوگ ہوں گے تو اگر اس کی قرأت صرف ایک رہی تو بہت لوگوں کو دشواری ہوگی کہ بعض لوگوں کی زبان پر امالہ آسان ہوتا ہے، بعض کی زبان پر تفہیم سہل اس لیے اس میں نرمی ہونی چاہیں جبریل امین سے یہ فرمانا درحقیقت رب تعالٰی سے عرض کیا کیونکہ حضرت جبرئیل رب و محبوب کے درمیان وسیلہ ہیں جیسے ہمارا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے اپنے درد کہنا در حقیقت حق تعالٰی سے عرض کرنا ہے۔معلوم ہوا کہ رب کے مقبول بندوں سی  عرض مدعا کرنا درحقیقت رب تعالٰی ہی کو کہنا ہے۔بنی اسرائیل کو جو کچھ رب سے کہنا ہوتا تھا وہ موسیٰ علیہ السلام سے ہی عرض کرتے تھے،وسیلہ کا ثبوت ہوا۔

۲؎ یعنی قرآن کریم سات لغتوں میں نازل ہوا جس کو جو لغت آسان ہو اس میں قرأت کرلے اس کی مفصل شرح پہلے ہوچکی ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To