We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب

باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب۔بعض نسخوں میں یوں ہے باب فی اختلاف القرآن و جمع القرآن یعنی قرآن شریف کی مختلف قرأتوں اور جمع قرآن کا باب جمع قرآن سے مراد یکجا کتابی شکل میں جمع کرناہے۔

2211 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يقْرَأ سُورَة الْفرْقَان على غير مَا أقرؤوها. وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقلت يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْسِلْهُ اقْرَأ " فَقَرَأت الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ» . ثُمَّ قَالَ لي: «اقْرَأ» . فَقَرَأت. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَكَذَا أنزلت إِن الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تيَسّر مِنْهُ» . مُتَّفق عَلَيْهِ. وَاللَّفْظ لمُسلم

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں میں نے ہشام ابن حکیم ابن حزام کو سنا ۱؎ کہ وہ سورہ فرقان اس کے خلاف پڑھ رہے ہیں جو میں پڑھتا تھا اور مجھے یہ سورہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے پڑھائی تھی ۲؎ قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں مگر میں نے انہیں مہلت دی حتی کہ فارغ ہوگئے پھر میں نے انہیں ان ہی کی چادر میں لپیٹ لیا ۳؎ پھر انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں لایا اور عرض کیا یارسول اﷲ میں نے انہیں سنا کہ سورۂ فرقان اس کے علاوہ پڑھ رہے ہیں جو مجھے حضور نے پڑھائی ہے ۴؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا انہیں چھوڑ دو۵؎ ہشام پڑھو انہوں نے وہ ہی قرأت تلاوت کی جو میں نے انہیں تلاوت کرتے سنی تھی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یوں ہی اتری ہے پھر مجھ سے فرمایا پڑ ھو میں نے پڑھی فرمایا یوں بھی اتری ہے یہ قرآن سات قرأت پر اترا ہے۔جس طرح آسان ہو تلاوت کرلیا کرو ۶؎(مسلم، بخاری)اور لفظ مسلم کے ہیں ۷؎

۱؎  پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ حکیم ابن حزام قرشی ہیں حضرت ام المؤمنین خدیجۃ الکبری کے بھتیجے ہیں فتح مکہ کے دن ایمان لائے آپ کے ساری اولاد صحابی ہے ان میں سے ہشام بھی ہیں۔

۲؎ یعنی مجھے اپنی قرأت کے صحیح ہونے کا یقین تھا کیو نکہ میں نے کسی اور سے نہ سیکھی تھی خو د حصور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے سیکھی تھی اس لیے مجھے شبہ ہوا کہ ہشام دیدہ و دانستہ قرآن غلط پڑ ھ رہے ہیں۔

۳؎  اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ دین میں کسی کی رعایت نہیں عزیز قریبی ہو یا اجنبی معمولی آدمی ہو یا بڑا۔ دوسرے یہ کہ تلاوت قرآن کا بڑا احترام ہے کسی شخص کو دوران تلاوت میں اس سے لڑنا جھگڑنا نہیں چاہیئے نہ اس کی تلاوت میں رکاوٹ



Total Pages: 441

Go To