Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۳؎ یعنی آخری زمانہ میں محض ریاء و نمود کے لیے قرآن کا لہجہ درست کرنے میں بہت تکلفات کریں گے مگر ثواب سے محروم رہیں گے اس کی وجہ آگے آرہی ہے۔

۴؎ یعنی ان کی یہ تمام محنتیں صرف لہجہ حسین کرنے کے لیے ہوں گی تاکہ دنیا دار پسند کریں،واہ واہ ہو،پیسے خوب ملیں اخلاص نہ ہوگا پھر ثواب کیسے پائیں،جان کی قیمت ہوتی ہے نہ کہ محض قالب کی،ہرعبادت کا یہ ہی حال ہے اﷲ تعالٰی اخلاص نصیب کرے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ناراضی ان کی محنت پر نہیں بلکہ ریاء و نمود پر ہے۔

2207 -[21]

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «اقرؤوا الْقُرْآنَ بِلُحُونِ الْعَرَبِ وَأَصْوَاتِهَا وَإِيَّاكُمْ وَلُحُونَ أَهْلِ الْعِشْق وَلُحُون أهل الْكِتَابَيْنِ وسيجي بعدِي قوم يرجعُونَ بِالْقُرْآنِ ترجع الْغِنَاءِ وَالنَّوْحِ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ مَفْتُونَهٌ قُلُوبُهُمْ وَقُلُوبُ الَّذِينَ يُعْجِبُهُمْ شَأْنُهُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید عربی لہجوں اور عربی آوازں سے پڑھو ۱؎ عشق والوں کی راگنیوں اور توریت و انجیل والوں کے لہجوں سے بچو ۲؎ ہمارے بعد وہ قومیں آئیں گی جو قرآن میں ایسی گلے بازیاں کریں گے جیسے گانے اور نوحے میں۳؎ قرآن ان کے گلے سے نیچے نہ اترے گا ۴؎  ان کے اور انہیں پسند کرنے والوں کے دل فتنہ میں مبتلا ہوں گے ۵؎(بیہقی شعب الایمان)اور رزین نے اپنی کتاب میں۔

۱؎ اہل عرب کی تلاوت میں صرف آواز کی عمدگی،مخارج کی صحت،اداء الفاظ کی نفاست ہوتی ہے تکلف اور موسیقی کے طریقوں سے خالی،چونکہ قرآن شریف عربی ہے اسے عربی طریقے سے پڑھو،لحن کے معنے ہیں خوش و طرب اور آواز کی لچک و لہر۔

۲؎ یعنی نہ تو قر آن گیت کے نغموں سے گاؤں جیسے عشاق گویے ٹھمری،داد رے وغیرہ گاتے ہیں اور نہ ایسے تکلفات سے پڑھو جیسے یہود و نصاری توریت و انجیل پڑھتے ہیں جن سے اصل عبارت بگڑ جاتی ہے جہاں مدنہ ہو وہاں پیدا ہوجاتاہے جہاں شد ہو وہاں نہیں رہتا۔الف زبر بن جاتا ہے زبر الف وغیرہ،فقیر نے بعض قوالوں کو قرآنی آیات طبلے سارنگی پر نغموں کی طرح سے گاتے سنا کہ ان کے گیتوں میں آیتیں ہیں انہیں باجوں پر گاتے ہیں۔

۳؎ یعنی قرآن میں گلے بازیاں،راگ راگنی و آوازیں بھرانے سے کام لیں گے اسے گیت یا قوالی کا شعر بنادیا کریں گے،جیسا کہ آج دیکھا جارہا ہے اس غیب دان نبی نے پہلے ہی اس کی خبر دے دی تھی۔

۴؎ یعنی صرف زبان پر قرآن کے الفاظ ہوں گے دل پر قرآن کا کوئی اثر نہ ہوگا ایمان میں تازگی نہ پیدا ہوگی نہ ان کے سامعین کے کیونکہ جو منہ سے نکلتا ہے وہ کان پر گرتا ہے جو دماغ سے نکلتا ہے وہ دماغ پرگرتا ہے۔جو دل سے نکلتا ہے وہ دل پرگرتا ہے۔

۵؎ یعنی خود ان کے اور سامعین کے دل اس تلاوت سے فائدہ نہ اٹھائیں گے بلکہ الٹا نقصان۔

2208 -[22]

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «حَسِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ فَإِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ يُزِيدُ الْقُرْآنَ حُسْنًا» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو کیونکہ اچھی آواز قرآن کا حسن بڑھا دیتی ہے ۱؎ (دارمی)

 



Total Pages: 441

Go To