We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ یعنی ہر آیت پرٹھہرکر سانس توڑ دیتے تھے،پھر دوسری آیت تلاوت فرماتے تھے،سکتہ اور وقف میں یہ ہے فرق ہے کہ وقف میں سانس توڑ دی جاتی ہے پھرٹھہرا جاتا ہے مگر سکتہ میں ٹھہرتے تو ہیں سانس نہیں توڑتے۔

۲؎ قراء کہتے ہیں کہ وقف تین قسم کا ہے:وقف حسن،وقف کافی،وقف تام الرحمن الرحیم پر وقف کافی ہے،وقف حسن نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ملك یوم الدین پر وقف کرے اسی طرح رب العلمین پر وقف تام تو ہے حسن نہیں۔وقف حسن یہ ہے کہ الحمد سے شروع کرکے یوم الدین پر ٹھہرے،ہمارے ہاں لوگ رب العلمین پر وقف کو سخت برا جانتے ہیں یہ بھی درست نہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ہاں یہ کہو کہ بہتر نہیں۔

۳؎ کیونکہ ابن ابی ملیکہ نے حضرت ام سلمہ سے ملاقات نہیں کی،لہذا درمیان میں کوئی راوی چھوٹ گئے حدیث منقطع ہے۔

۴؎ خلاصہ یہ ہے کہ ابن ابی ملیکہ سے لیث ابن سعد نے بھی روایت کی ہے اور جریج نے بھی مگر لیث ابن سعد کی روایت صحیح تر ہے کہ اس میں کوئی راوی چھوٹا نہیں،ام سلمہ سے پہلے یعلی ابن مملک کا ذکر ہے اور جریج کی روایت میں راوی چھوٹ گیا ہے یہ مقطع ہے،لیث ابن سعد بہت ثقہ تھے،انہوں نے ابن ابی ملیکہ عطاء زہری سے روایات لیں۔اور ان سے بہت محدثین نے،انہیں بیس ہزار دینار کی سالانہ آمدنی تھی،مگر ان پرکبھی زکوۃ واجب نہ ہوئی،نیز اس حدیث کا متن بلاغت و لہجہ کے بھی خلاف ہے کہ الرحمن الرحیم پر وقف بہتر نہیں۔(مرقات وغیرہ)

الفصل الثالث

تیسری فصل

2206 -[20]

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَفينَا الْأَعرَابِي والأعجمي قَالَ: «اقرؤوا فَكُلٌّ حَسَنٌ وَسَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر تشریف لائے جب ہم قرآن پڑھ رہے تھے عربی اور عجمی سب ہی تھے ۱؎ فرمایا پڑھے جاؤ سب ٹھیک ہو ۲؎ کچھ قومیں ایسی ہوں گی جو تلاوت کو ایسے درست کریں گی جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے ۳؎ دنیا میں اجرت لیں گے آخرت کے لیے نہ رکھیں گے ۴؎(ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان)

۱؎ یعنی اس مجلس میں شہری صحابی بھی تھے اور دیہات کے باشندے بھی عربی و اعرابی میں یہ ہی فرق ہے کہ عربی عام ہے اعرابی خاص اہل دیہات اور عربی بھی تھے بیرون عرب کے بھی کہ بلال حبشہ کے تھے،سلمان فارس کے،صہیب روم کے رضی اللہ عنہم غرض کہ شعر

لگایا تھا مالی نے اک باغ ایسا                                   نہ تھا جس میں چھوٹا بڑا کوئی پودا

۲؎ یعنی قرآن شریف عجمی،عربی،شہری،بدوی سب کے لیے آیا ہے،سب ہی تلاوت کیا کرو عجمی یہ خیال نہ کریں کہ چونکہ ہمارا لہجہ عرب کا سا نہیں ہوسکتا لہذا ہم تلاوت ہی چھوڑ دیں،جو لہجہ بن پڑے اس میں پڑھو۔ہاں صحیح پڑھو لہجے کا اعتبار نہیں صحت کا اعتبار ہے اور اخلاص کا ثواب۔شعر

مادروں رابنگریم وحال را                                          ما بروں را ننگریم وقال را

 



Total Pages: 441

Go To