Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2203 -[17]

وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيّ

روایت ہے حضرت صہیب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ شخص قرآن پر ایمان ہی نہ لایا جو اس کے محرمات کو حلال جانے ۱؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ۲؎

۱؎ یعنی تلاوت قرآن جب مفید ہے جب کہ اس کے احکام پر ایمان ہو،ایمان کے بغیر نہ تلاوت مفید ہے نہ قرآن ساتھ رکھنا اگرچہ سارے ہی محرمات کو حرام ماننا ضروری ہے،مگر چونکہ قرآن کریم بہت عظمت والا ہے،اس لیے خصوصیت سے اسی کا ہی ذکر فرمایا حلال و حرام پر ایمان نہ لانے والا کافر ہے پھر تلاوت کا ثواب کیسے پائے،غذا،دوا،زندہ کو مفید ہے نہ کہ مردے کو۔

۲؎ اگرچہ حدیث بعض راویوں کی وجہ سے قوی نہ ہو،مگر قرآن مجید اس کی تائید فرمارہا ہے۔فرمایاہے:"اَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ہُمْ یَحْسَبُوۡنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوۡنَ صُنْعًا

2204 -[18]

وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مليكَة عَنْ يَعْلَى بْنِ مُمَلَّكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت لیث ابن سعد سے وہ ابو ملیکہ سے وہ یعلیٰ ابن مملک سے راوی ۱؎ کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت قرآن کی متعلق پوچھا تو آپ حضور کی قرأۃ اس طرح بتانے لگیں کہ ایک ایک حرف الگ الگ ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

۱؎ لیث ابن سعد مشہور تابعی فقیہ ہیں،مصر کے امام ہیں اور ابن ابی ملیکہ تابعی ہیں مکہ معظمہ کے قاضی تھے حضرت ابن زبیر کی طرف سے،آپ نے تیس صحابہ سے ملاقات کی ہے،یعلی ابن مملک بھی تابعین میں سے ہیں۔

 ۲؎ یعنی حضرت ام سلمہ نے خود قرأت کرکے سنائی تو اس قرأت شریف میں دو خوبیاں تھیں ایک تو نہایت ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر تھی،دوسرے ہر حرف اپنے مخرج سے صحیح ادا ہوتا تھا۔ معلوم ہوا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بڑی قاریہ تھیں،ورنہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأۃ کی نقل نہ کرسکتیں۔ حضرت عبداﷲ ابن عباس فرماتے ہیں کہ مجھے ترتیل سے ایک سورۃ تلاوت کرنا بغیر ترتیل کے سارا قرآن پڑھنے سے زیادہ پسند ہے،زیادہ حسن اچھا ہے،ایک موتی،ہزار ہا روپیہ سے بہتر ہوتاہے۔

2205 -[19]

وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ثُمَّ يَقِفُ ثُمَّ يَقُولُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ يَقِفُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ اللَّيْثَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَحَدِيثُ اللَّيْث أصح

روایت ہے حضرت ابن جریج سے وہ ابن ابو ملیکہ سے وہ حضرت ام سلمہ سے راوی فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے ۱؎ اس طرح کہ پڑھتے الحمد ﷲ رب العلمین پھرٹھہر جاتے پھر پڑھتے الرحمن الرحیم پھر ٹھہر جاتے ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد مسلسل نہیں ۳؎ کیونکہ یہ حدیث لیث نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے یعلی ابن مملک سے انہوں نے ام سلمہ سے روایت کی لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے۴؎

 



Total Pages: 441

Go To