We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2197 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِن يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ فَإِنِّي لَا آمن أَن يَنَالهُ الْعَدو»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی زمین میں قرآن کے ساتھ سفر کرنے سے منع فرمایا ۱؎ (مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ قرآن لے کر سفر نہ کرو کہ مجھے اطمینان نہیں کہ اسے دشمن لے لے۲؎

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ قرآن شریف سے مراد یہ ہی لکھا ہوا قرآن مجید ہے اور دشمن سے مراد کفار حربی ہیں اور جانے سے مراد وہ جانا ہے جس میں کفار سے قرآن کریم کی بے حرمتی کا اندیشہ قوی ہو لہذا اگر لشکر اسلام قرآن شریف لے کر دارالحرب میں جائے یا اکیلا مسلمان کفار کی امن لے کر وہاں جائے یا جو مسلمان کفار کی رعایا بن کر ان کے ملک میں رہتے ہوں اور ان کے پاس قرآن شریف ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ ان صورتوں میں قرآن کی بے حرمتی کا قوی اندیشہ نہیں لہذا اب قرآن کریم کے پارسل کفار کے ملک میں بھیجنے یا خود کفار کے ہاتھ قرآن پاک فروخت کرنا یا کفار کے خط میں قرآنی آیت لکھنا یا انہیں قرآن سنانا سب کچھ جائز ہے کہ یہ تبلیغ ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں قرآن سے مراد حافظ قرآن ہیں یا وہ صحیفے جن میں زمانہ صحابہ میں قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں۔مقصد یہ ہے کہ آج کل حافظ قراء اکیلے دشمن کے ملک میں نہ جائیں کہ اگر یہ شہید کردیئے گئے تو قرآ ن  مجید ضائع ہوجائے گا یا یہ صحیفے لے کردشمن کے ملک میں  اکیلے نہ  جاؤ کہ اگر یہ برباد ہوگئے تو قرآن کریم کا بہت حصہ جاتے رہنے کا اندیشہ ہے۔لمعات و مرقات نے فرمایا کہ اس میں غیبی خبر ہےکہ آئندہ قرآن کریم کتابی شکل میں جمع ہوگا کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کریم کتابی شکل میں نہ تھا۔

 ۲؎  اور لے کر اس کی توہین کرے یا تم کو واپس نہ دے یا اسے پھاڑ دے یا جلا دے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2198 -[12]

عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: جَلَست فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لِيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَيْنَا فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَتَ الْقَارِئُ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟» قُلْنَا: كُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كتاب الله قَالَ فَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ» . قَالَ فَجَلَسَ وَسَطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِينَا ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا فَتَحَلَّقُوا وَبَرَزَتْ وُجُوهُهُمْ لَهُ فَقَالَ: «أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنصْف يَوْم وَذَاكَ خَمْسمِائَة سنة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

 روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ میں کمزور مہاجروں کی جماعت میں بیٹھا تھا ۱؎ وہ حضرات برہنگی کے باعث بعض بعض کی آڑ لیتے تھے ۲؎ ایک قاری ہم پر تلاوت کررہے تھے۳؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم کھڑے ہوگئے جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو قاری خاموش ہوگئے حضور نے سلام کیا ۴؎ پھر حضور نے فرمایا تم کیا کررہے تھے ۵؎ ہم نے عرض کیا ہم اﷲ کی کتاب بغور سن رہے تھے ۶؎ فرمایا شکر ہے اس خدا کا جس نے میری امت میں وہ لوگ پیدا کئے جن کے ساتھ رہنے کا مجھے حکم دیا گیا پھر ہمارے درمیان ۷؎ تشریف فرما ہوگئے تاکہ اپنے کو ہمارے برابر رکھیں ۸؎ پھر ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ یوں ہوجاؤ لوگ حلقہ بن گئے کہ سب کے چہرے حضور کے سامنے ہوگئے ۹؎ فرمایا اے فقراء مہاجرین کی جماعت تمہیں قیامت کے دن کے مکمل نور کی بشارت ہو ۱۰؎ تم جنت میں مالداروں سے آدھا دن پہلے جاؤ گے یہ آدھا دن پانچ سو سال ہیں ۱۱؎(ابو داؤد)

 



Total Pages: 441

Go To