We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب

باب آدابِ تلاوت ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں صرف باب ہے یعنی قرآن کریم کے متعلق متفرق مسائل کا باب اور بعض نسخوں میں"باب اداب التلاوۃ"ہے اوربعض نسخوں میں ہے"باب اداب التلاوۃ ودرس القرآن"۔(اشعہ)

2187 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهْوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا»

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی نگرانی رکھو ۱؎ اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ قرآن ر سی میں بندھے اونٹ سے زیادہ بھاگ جانے والا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎  تعاھد عہد سے بنا،بمعنی حفاظت و نگرانی ومضبوط وعدے کو بھی اسی لیے عہد کہتے ہیں کہ اس کی حفاظت کی جاتی ہے،قرآن شریف کی نگرانی کرنے سے مراد ہے اس کا دورکرتے رہنا،اس کی تلاوت کی عادت ڈالنا،خصوصًا حافظ صاحبان کے لیے ظاہر یہ ہے کہ قرآن سے مراد الفاظ قرآن،معانی قرآن  علوم قرآن اور مسائل قرآن سب ہی ہے یعنی حفاظ اپنے حفظ کی،قاری صاحبان تجوید کی،علماءعلوم قرآنیہ کی تجدید و تکرار کرتے رہیں،ورنہ بھول جانے کا اندیشہ ہے۔

۲؎  عقل عین وقاف کے پیش سے ہے عقال کی جمع،بمعنی رسی جس سے جانور باندھا جاوے،یہاں فی بمعنی من ہے یعنی جیسے اونٹ کو باندھنے کے باوجود اس سے غافل نہیں ہوتے اسی لیے قرآن شریف حفظ کرنے کے باوجود اپنے یاد پر اعتماد نہ کرو،یہ بہت جلد بھول جاتاہے کیوں نہ ہو کہ کلام الٰہی قدیم اور ہم حادث، ہم کو اس سے نسبت ہی کیا ہے یہ رب تعالٰی کی مہربانی ہے کہ ہم اسے سیکھ لیتے ہیں اور یہ ہمارے ذہنوں میں سما جاتا ہے تو ہماری ذرا سی غفلت اور لاپرواہی سے یہ نعمت ہم سے جاتی رہے گی پان والے ہمیشہ پان کے ڈھیر کو لوٹتے پلٹے رہتے ہیں،تو قرآن والے ہمیشہ اس کی لوٹ و پلٹ رکھیں۔

2188 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: " بئس مالأحدهم أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ نُسِّيَ وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ مُسلم: «بعقلها»

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا بلکہ وہ بھلادیا گیا ۱؎ اور قرآن یادکرتے رہو کیونکہ قرآن لوگوں کے سینوں سے وحشی جانور سے بھی زیادہ بھاگ جانے والا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)اورمسلم نے یہ زیادہ کیا کہ اپنی رسی سے۔

۱؎ یعنی اگر کسی شخص کو قرآن شریف یا کوئی یاد کی ہوئی سورۃ یا آیت یاد نہ رہے،تو یہ نہ کہے کہ میں بھول گیا کیونکہ اس میں اپنے گناہ کا اعلان ہے اور قرآن شریف کی بے ادبی،اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ میں نے قرآن شریف سے لاپرواہی برتی کہ اسے چھوڑ دیا،اسی لیے بھول گیا،یہ عیب کفار کا ہے"اَتَتْکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیۡتَہَا وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنۡسٰی"بلکہ یوں کہے کہ مجھ رب



Total Pages: 441

Go To