Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2168 -[60]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ تَصْدَأُ كَمَا يَصْدَأُ الْحَدِيدُ إِذَا أَصَابَهُ الْمَاءُ» . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جِلَاؤُهَا؟ قَالَ: «كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ» . رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ یہ دل ایسے زنگ آلود ہوتے رہتے ہیں جیسے لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے ۱؎عرض کیا گیا یا رسول اﷲ ان دلوں کی صیقل کیا ہے ۲؎ فرمایا موت کی زیادہ یاد ۳؎ اور قرآن کریم کی تلاوت ۴؎ ان چاروں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔

۱؎ یعنی گناہوں دنیاوی الجھنوں میں مشغولیت ذکر محبوب سے غفلت و غیرہ دل کے زنگ کا سبب ہے یہ زنگ کبھی معمولی ہوتی ہے جو معمولی کوشش سے جاتی رہتی ہے اور کبھی بہت سخت کہ بہت کوشش کے بعد دور ہوتی ہے اور کبھی ناقابل دفع جیسے رین اور ختم کہا جاتا ہے۔رب تعالٰی فرماتاہے:"کَلَّا بَل رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ"۔خیال رہے کہ یہاں "ھذہ القلوب"سے مراد عام انسانوں کے دل ہیں۔انبیائے کرام اور خاص اولیاءاﷲ کے دل اس سے مستثنٰی ہیں۔جو ہمیشہ حفاظت الٰہی میں رہتے ہیں ان کے لیے ذکر موت اور تلاوت قرآن زیادتی نورانیت کے سبب ہیں۔

۲؎ یعنی ہر چیز کی صفائی کے آلات الگ الگ ہیں اور ہر ایک کی پالش جدا گانہ ہے تو دلوں کی پالش و صفائی کس چیزسے ہوگی۔

۳؎ کیونکہ موت کو یاد کرنے میں دل دنیا سے سرد ہوجاتا ہے آخرت کی طرف راغب ہو کر گناہوں سے متنفر اور نیکیوں کی طرف مائل ہوجاتا ہے جوشخص روزانہ موت کو یاد کرلیا کرے اس کو درجۂ شہادت ملے گا اگرچہ طبی موت سے مرے۔(شامی)اسی لیے زیارت قبوت سنت ہے تاکہ اس سے اپنی موت یاد آتی رہے، موت خاموش و اعظ ہے۔

۴؎ کیونکہ قرآن گویا اپنے روحانی دیس کا خط ہے جو ہم پردیسیوں کو وہاں کی یاد دلاتا ہے اس دیس کی یاد اس جسمانی عارضی دیس سے دل سرد کردیتی ہے یہ بولتا ہوا واعظ ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ یاد موت کی کثرت دل کا زنگ دور کرتی ہے اور تلاوت مطلقًا خواہ زیادہ ہو یا کم یہ اثر کرتی ہے۔

2169 -[61]

وَعَنْ أَيْفَعَ بْنِ عَبْدٍ الْكَلَاعِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ سُورَةِ الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ)

قَالَ: فَأَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: آيَةُ الْكُرْسِيِّ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ)قَالَ: فَأَيُّ آيَةٍ يَا نَبِيَّ اللَّهِ تُحِبُّ أَنْ تُصِيبَكَ وَأُمَّتَكَ؟ قَالَ: «خَاتِمَةُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَإِنَّهَا مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ تَحْتِ عَرْشِهِ أَعْطَاهَا هَذِهِ الْأُمَّةَ لَمْ تتْرك خيرا من يخر الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت ایفع ابن عبدالکلاعی سے ۱؎ فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم قرآن کریم کی کون سی سورۃ بہت بڑی ہے فرمایا"قل ھو اﷲ احد"۲؎ عرض کیا پھر قرآن کریم کی کون سی آیت بہت بڑی ہے۳؎ فرمایا آیۃ الکرسی،یعنی "اﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم"۴؎ عرض کیا یا نبی اﷲ کس آیت کے متعلق آپ چاہتے ہیں کہ اس کی برکت آپ کو اور آپ کی امت کو پہنچے ۵؎ فرمایا سورہ بقر کی آخری آیات ۶؎ کہ وہ اﷲ تعالٰی کی رحمت کے عرشی خزانے ہیں جو اﷲ نے اس امت کو بخشے ان آیتوں نے دنیاو آخرت کی کوئی بھلائی ایسی نہ چھوڑی جو اپنے میں لے نہ لی ہو ۷؎(دارمی)

 



Total Pages: 441

Go To