Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ کیونکہ نماز میں تلاوت سے دو عبادتوں کا اجتماع ہے اور ایک عبادت سے دو افضل ہیں،نیز نماز میں جو یکسوئی ہوتی ہے وہ بیرون نماز میسر نہیں ہوتی،نیز نماز میں جو قرب الٰہی نصیب ہوتاہے وہ بیرون نماز نصیب نہیں ہوتا۔اس سے معلوم ہوا کہ دو عبادتوں کا اجتماع افضل ہے لہذا فاتحہ ختم وغیرہ بہترین چیز ہے کہ ان میں تلاوت و خیرات کا اجتماع ہوتا ہے یعنی یہ دو عبادتوں کامجموعہ ہیں۔

۲؎ کیونکہ تسبیح و تہلیل قرآن کا جزءہیں اور تلاوت میں کل قرآن ہے اور جزء سے کل افضل نیز قرآن میں وظیفہ بھی اور رب تعالٰی کے احکام بھی۔ علماء فرماتے ہیں کہ سجدہ و رکوع و تشہد سے قیام افضل ہے کیونکہ قیام میں تلاوت قرآن ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔ شیخ نے فرمایا کہ بیرون نماز تلاوت نماز کی تسبیح و تہلیل سے بھی افضل ہے۔

۳؎ یعنی اس خیرات سے بہتر ہے جو ذکر اﷲ سے خالی ہو وجہ ظاہر ہے کہ صدقہ ہے ہمارا کام،تسبیح و تہلیل میں ہے رب کا نام، ہمارے کام سے رب کا نام افضل ہے چاہئیے کہ خیرات کے وقت اﷲ کا ذکربھی کیاجائے۔

۴؎ اس وجہ سے کہ صدقہ میں مال راہ خدا میں خرچ کرنا ہے اور روزے میں مال نفس کے لیے روکنا اور بچانا ہے کہ روزہ میں دوپہر کا کھانا بچ جاتا ہے اور مال بچانے سے خرچ کرنا راہ خدا میں بہتر۔بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ روزہ وہ بہتر جس میں بچا ہوا مال خیرا ت کردیا جائے یعنی جب نفلی روزہ رکھے تو دوپہر کا کھانا خیرات کردے تاکہ روزہ خیرات جمع ہو جائیں بلکہ روزہ میں ذکر اﷲ زیادہ کرے تاکہ روزہ و تسبیح و تہلیل کا اجتماع نصیب ہو یا یہ وجہ ہے کہ روزہ میں اس صرف روزہ دار کا نفع ہے اور صدقہ میں دینے والے کا بھی اور فقیر کا بھی بھلا اور لازم عبادت سے متعدی عبادت بہتر ہے۔خیال رہے کہ یہ فضیلت جزوی ہے ورنہ کلیۃً روزہ خیرات سے بہتر ہے لہذا یہ حدیث روزہ کے فضائل کی احادیث کے خلاف نہیں۔

۵؎ جب روزہ جوان تمام عبادات میں سے آخر درجہ کی عبادت ہے اس کا یہ فائدہ ہے تو سوچ لو کہ اس سے اوپر والی عبادتوں کا کیا فائدہ ہوگا وہ ہمارے خیال و ہم سے وراءہے۔

2167 -[59]

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قِرَاءَةُ الرَّجُلِ الْقُرْآنَ فِي غَيْرِ الْمُصْحَفِ أَلْفُ دَرَجَةٍ وَقِرَاءَتُهُ فِي الْمُصحف تضعف عل ذَلِك إِلَى ألفي دَرَجَة» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت عثمان ابن عبداﷲ ابن اوس ثقفی سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی شخص کا بغیر قرآن کریم دیکھے تلاوت کرنا ہزاردرجہ ہے۱؎ اور قرآن  میں دیکھ کر تلاوت کرنا اس پر دو ہزار درجہ افضل ہے۲؎

۱؎ یعنی حفظ تلاوت قرآن کا ثواب دیگر عبادت سے ہزار گنا زیادہ ہے،اس کی وجہ پہلے بیان ہوچکی۔

 ۲؎ یعنی قرآن کریم میں دیکھ کر تلاوت کرنے کا ثواب دوسری عبادات سے دو ہزار گنا زیادہ یا حفظ تلاوت سے دو ہزار حصہ زیادہ ہے کیونکہ قرآن کریم دیکھنا بھی عبادت ہے اور اس کی تلاوت بھی عبادت تو دیکھ کر پڑھنے والا دوہری عبادت کرتا ہے اور حفظ تلاوت کرنے والا ایک عبادت کرتا ہے۔خیال رہے کہ چند چیزوں کا دیکھنا عبادت ہے قرآن کریم کعبہ معظمہ،عالم دین کا چہرہ،ماں باپ کو شفقت کی نظر سے دیکھنا اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا دیکھنا تو بڑ ی ہی عبادت ہے کہ اس سے مؤمن صحابی بن جاتاہے۔

2168 -[60]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ تَصْدَأُ كَمَا يَصْدَأُ الْحَدِيدُ إِذَا أَصَابَهُ الْمَاءُ» . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جِلَاؤُهَا؟ قَالَ: «كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ» . رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ یہ دل ایسے زنگ آلود ہوتے رہتے ہیں جیسے لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے ۱؎عرض کیا گیا یا رسول اﷲ ان دلوں کی صیقل کیا ہے ۲؎ فرمایا موت کی زیادہ یاد ۳؎ اور قرآن کریم کی تلاوت ۴؎ ان چاروں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To