Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎ یعنی سورۃ فلق پڑھنے میں نہایت آسان ہے کہ مختصر سی سورۃ ہے اور بلائیں دفع کرنے میں تیر بہدف اور جامع ہے کیونکہ اس میں ہرمخلوق کی شر سے پناہ مانگ لی گئی ہے اور وظیفوں و دعاؤں میں جامع وظیفے و دعائیں بہتر ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ ممکن ہے اس سے دو سورتیں فلق و ناس مراد ہوں یعنی ایک کا ذکر فرما کر دونوں کی اجازت دی ہو کیونکہ سورۂ ناس سورۂ فلق کی ساتھی ہے واﷲ اعلم۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2165 -[57]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ وَاتَّبِعُوا غَرَائِبَهُ وَغَرَائِبُهُ فَرَائِضُهُ وَحُدُودُهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کو خوب ظاہر کرو ۱؎ اور قرآن کے عجائبات کی پیروی کرو اس کے عجائب اس کے فرائض اور اس کے اسرار ہیں ۲؎

۱؎ اے عالمو قرآن کریم کی لوگوں میں خوب اشاعت کرو اسے چھپا نہ رکھو جیسے یہود و نصاریٰ نے اصل توریت و انجیل چھپادی سورج چھپنے کے لیے نہیں نکلتا چمکنے کے لیے نکلتا ہے قرآن کو چمکنے دو بلکہ خود بھی چمکاؤ اعراب کے معنے ہیں ظاہر کرنا عربی میں حرکات یعنی زبر ،زیر، پیش کو اسی لیے اعراب کہتے ہیں  کہ اس سے کلمات کی فاعلیت مفعولیت وغیرہ ظاہر ہو کر عبارت کے معنے ظاہر ہوجاتے ہیں۔

 ۲؎ یعنی غرائب سے مراد قرآنی متشابہات نہیں کیونکہ ان کی تاویلیں کرنا منع بلکہ مراد قرآنی احکام ہیں،جو بہت انوکھے اور نرالے ہیں یا فرائض سے مراد کرنے والے کاموں کے احکام ہیں اور حدود سے مراد نہ کرنے والی چیزیں یا فرائض سے مراد وراثت کے حصے ہیں اور حدود سے مراد باقی دیگر احکام ہیں یا فرائض سے مراد عام فہم معنے و احکام ہیں اور حدود سے مراد قرآنی اسرار ہیں یعنی قرآنی احکام اس کے معجزات اس کے وعدے وعید ہیں طلباء و عوام پر ظاہر کرو طلباء پر مدرسوں میں عوام پر مجلسوں اوروعظوں میں۔ قرآن کا ایک ظاہر ہے ایک باطن جیسے انسان کا ظاہر بدن ہے اور باطن قلب و روح،فرائض میں ظاہر کی طر ف اشارہ ہے،حدود میں باطن کی طرف۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن شریف کے لیے علم نحو،صرف لغت بلاغت وغیرہ سیکھنا ضروری ہے کہ ان علموں کے بغیر قرآن کے ہرصفات ظاہر نہ ہوسکتے ہیں نہ کئے جاسکتے ہیں۔

2166 -[58]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصَّدَقَةُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ».رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا نماز میں قرآن پڑھنا بیرون نماز کی تلاوت سے افضل ہے ۱؎ اور بیرون نماز قرآن شریف پڑھنا تسبیح و تکبیر پڑھنے سے بہتر ہے ۲؎  اور تسبیح پڑھنا،خیرات سے بہتر ہے ۳؎  اور خیرات روزے سے افضل ہے ۴؎ اور روزہ آگ سے ڈھال ہے ۵؎

 



Total Pages: 441

Go To