Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ یعنی اس سورۃ شریف کی تلاوت کی برکت سے اس کے لیے جنت واجب و لازم ہوگئی۔خیال رہے کہ نیک اعمال جنت حاصل ہونے کے اسباب میں علت تامہ نہیں بڑے بڑے نیک لوگ پھسل جاتے ہیں مگر یہ شخص حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی اس بشارت کی وجہ سے جنتی یقینًا ہوگیا کہ آپ کی زبان رب تعالٰی کا قلم ہے اس شخص کا جنتی ہوجانا قطعی ہوگیا۔

2161 -[53]

وَعَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي. فَقَالَ: «اقْرَأْ (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ)فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي

روایت ہے حضرت فروہ بن نوفل سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ مجھے ایسی چیز سکھائیے جو میں بستر پر دراز ہوتے وقت پڑھ لیا کروں تو فرمایا"قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ" پڑھ لیا کرو ۲؎ کہ یہ شرک سے بیزاری ہے ۳؎ (ترمذی،ابوداؤد،دارمی)

۱؎ فروہ کی صحابیت میں اختلاف ہے صحیح یہ ہے کہ آپ صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں،مگر آپ کے والد نوفل صحابی ہیں۔(اشعہ)

۲؎ بعض ر وایات میں یہ بھی ہے کہ"قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ"پڑھتے ہی سو جاؤ یعنی پھر کوئی دنیاوی بات نہ کرو اور اگر کرنا پڑ جائے تو دوبارہ پڑھ لو۔

۳؎ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس کا عامل ان شاءاﷲ ایمان پر ہی مرے گا علماء نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔

2162 -[54]

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا سير مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْجُحْفَةِ وَالْأَبْوَاءِ إِذْ غَشِيَتْنَا رِيحٌ وَظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ(أعوذ بِرَبّ الفلق)و(أعوذ بِرَبِّ النَّاسِ) وَيَقُولُ: «يَا عُقْبَةُ تَعَوَّذْ بِهِمَا فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں کہ جب میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حجفہ اور ابواء کے درمیان سفر کررہا تھا ۱؎ کہ اچانک ہمیں آندھی اور سخت تاریکی نے گھیر لیا ۲؎ تو رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم تعوذ فرمانے لگے اعوذ برب الفلق سے اعوذ برب الناس اور فرمانے لگے اے عقبہ ا ن دونوں سورتوں سے تعوذ کیا کرو کہ کسی پناہ لینے والے نے ان جیسی سے تعوذ نہ کیا۳؎(ابوداؤد)

۱؎ حجفہ اور ابواء دونوں مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے درمیا ن دو مقامات ہیں،ابواء تو وہ ہی جگہ ہے جہاں حضرت آٓمنہ خاتون رضی اللہ عنہا کی وفات شریف ہوئی،حجفہ شام،مصر اورمغرب والوں کا میقات ہے جہاں سے یہاں کے حجاج احرام باندھتے ہیں اسی جگہ کے متعلق حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا فرمائی تھی کہ خدایا مدینہ کی وبا حجفہ کی طرف منتقل فرمادے چنانچہ وہاں بیماریاں خصوصًا بخار بہت زیادہ ہے حتی کہ اگر پرندہ بھی وہاں سے گزرے تو اسے بھی بخار آجاتا ہے یہ جگہ رابغ کے پاس ہے۔بعض کا خیال ہے کہ اب اسی حجفہ کا نام رابغ ہے،حجفہ اور ابواء کے درمیان بیس میل کا فاصلہ ہے۔(لمعات ومرقات)

۲؎ یعنی کالی آندھی آگئی اور ہم اس میں گھر گئے سفر میں ایسی صورت بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں سورتیں صرف جادو کے لیے ہی نہیں بلکہ دوسری آفتوں میں بھی کام آتی ہیں اگر ان کا تعویذ لکھ کر ساتھ رکھا جائے تو بھی امان ملتی ہے قرآنی آیات سے تعویذ جائز ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To