Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎ یعنی آئندہ زمانہ میں کچھ سخت دل اور بداخلاق حکام بھی ہوں گے تم ان کی بد اخلاقی کی بنا پر زکوۃ کے انکاری نہ ہوجانا کہ تمہاری زکوۃ اﷲ کے لیے ہے نہ کہ ان کے لیے بلکہ  انہیں دیکھ کر خوش ہونا کہ ان کے ذریعہ تمہارا فریضہ ادا ہوگا،بعض دیندار غنی زکوۃ دیتے وقت فقیر کا احسان مانتے ہیں کہ اس کے ذریعہ ہمارا فرض ادا ہوا۔

۳؎ حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ظاہر ظہور ظلم کریں کہ زکوۃ سے زیادہ لیں یا زکوۃ کے ساتھ رشوت مانگیں اور تم دے دو کیونکہ ظلم پر امدادبھی ظلم ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر ان کا کوئی فعل تمہیں ظلم معلوم ہو مگر واقع میں ظلم نہ ہو تو تم اپنی رائے پر عمل نہ کرو ان کے حکم پرعمل کرو مثلًا زکوۃ میں درمیانہ جانور لینا چاہیئے  ایک جانور کو تم اعلیٰ سمجھتے ہو وہ درمیانہ یا پیداوار کا دسواں حصہ دیناچاہیئے،تم ایک ڈھیڑ کو سو۱۰۰ من سمجھتے ہو تو وہ سوا سو من ہے تو تم ان کی بات مان لو،اب اگر واقعی وہ زیادہ لے گئے ہیں تو اس کے جواب دہ وہ ہوں گے نہ کہ تم یا یہ کلام بطریق مبالغہ ہے کہ فرض کرو کہ واقع میں وہ ظالم بھی ہوں تو بھی تم ان کا مقابلہ نہ کرو گے اس میں سلطان اسلام کی بغاوت ہوگی جس کے دبانے کے لیے وہ قوت خرچ کریں گے جس سے کشت و خون و فساد ہوگا بلکہ ان کے ظلم کی شکایت بادشاہ سے کرو اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کرو لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے اس میں ظلم کی اجازت نہیں دی گئی مگر پہلے معنے راحج ہیں کیونکہ ان سے دعا لینے کا حکم دیا گیا ظلم سے دعا کب لی جاتی ہے۔

1783 -[12]

عَن جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ يَعْنِي مِنَ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّ نَاسًا مِنَ المصدقين يَأْتُونَا فيظلمونا قَالَ: فَقَالَ: «أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ وَإِنْ ظُلِمْتُمْ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت جریر ابن عبداﷲ سے فرماتے ہیں کہ کچھ دیہاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے بولے کہ زکوۃ وصول کرنے ہمارے پاس آتے ہیں تو ہم پرظلم کرتے ہیں حضور نے فرمایا کہ اپنے زکوۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو  وہ  بولے یارسول اللہ اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں فرمایا انہیں راضی کرو اگرچہ تم ظلم کئے جاؤ   ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎  اس کی شرح پہلے گزر چکی۔یہ بدوی حضرات شرعی مسائل سے پورے واقف نہ تھے اور زکوۃ وصول کرنے والے عامل جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقرر ہوتے تھے وہ قریبًا تمام مسائل سے خصوصًا زکوۃ کے مسائل سے پورے خبردار ہوتے تھے،یہ دیہاتی حضرات اپنی کم علمی کی وجہ سے سمجھتے تھے کہ عاملین ہم پر زیادتی کررہے ہیں ا س لیےحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگرچہ تم ان کے جائز عمل کو ظلم ہی سمجھتے رہو مگر انکی بات مانو اور ان کے کہے پر عمل کرو،انہیں راضی کر کے واپس کرو کیونکہ میرے صحابہ ظالم نہیں ہوسکتے،وہ میرے صحبت یافتہ و تعلیم یافتہ ہیں اور بشہادت قرآن کریم وہ سب عادل ہیں،لہذا اس حدیث میں نہ تو حکام کو ظلم کی اجازت ہے اور نہ اس سے صحابہ کا ظالم و فاسق ہونا ثابت ہوسکتا ہے۔خیال رہے کہ جو کسی صحابی کو ظالم مانے وہ چیونٹی سے بھی زیادہ بے وقوف ہے،قرآن کریم فرماتاہے کہ چیونٹی نے اپنی سہیلیوں کو لشکر سلیمانی سے خبردارکرتے ہوئے یہ کہا"لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیۡمٰنُ وَجُنُوۡدُہٗ وَہُمْ لَا یَشْعُرُوۡنَ"یعنی ایسا نہ ہو کہ تم لشکر سلیمانی یعنی حضرت سلیمان علیہ ا لسلام کے صحابہ کے پاؤں تلے روندی جاؤ اور انہیں خبر نہ ہو۔مطلب یہ ہے کہ وہ حضرات جان بوجھ کر چیونٹی کو بھی نہیں کچلتے،صحابہ کرام کی آپس کی جنگیں"وَ ہُمْ لَا یَشْعُرُوۡنَ"کے ماتحت ہوئیں،دیکھو یہاں حضور علیہ ا لسلام نے ان لوگوں سے ظلم کی تفصیل نہ پوچھی کیونکہ آپ جانتے تھے کہ وہ ظلم کرتے ہی نہیں۔

 



Total Pages: 441

Go To