We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

كتاب فضائل القرآن

قرآن کے فضائل کا بیان ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ فضائل فضیلت کی جمع ہے فضیلت فضل سے بنا بمعنی زیادتی عرف میں فضیلت اس خصوصی بزرگی کو کہتے ہیں جو دوسرے کو حاصل نہ ہو۔ خیال رہے کہ فضل صفت ہے اور فضول عیب یعنی عبث یا فائدہ سے خالی۔ قرآن کی وجہ تسمیہ ہماری کتاب"تفسیر نعیمی"جلد اول کے مقدمہ میں ملاحظہ کیجئے کہ یہ لفظ قرءٌسے بنایا قرأۃ سے یا قرن سے قرآن کے فضائل بعض عمومی ہیں یعنی سارے قرآن کے فضائل اور بعض خصوصی یعنی بعض سورتوں یا بعض آیتوں کے خصوصی فائدے و تاثیریں، جن آیات میں حمد و نعت ہیں وہ ذکر بھی افضل، ذاکر بھی اعلیٰ اور مذکور بھی بہتر مگر جن آیات میں کفار کا ذکر ہے وہاں ذکر اعلیٰ ذاکر افضل مگر مذکور بدترین خلق،اسی لیے قل ھو اﷲ تین بار پڑھنے  میں سارے قرآن کی تلاوت کا ثواب ہے کہ یہ حمد کی سورت ہے اور تبت یدا تین سو بار بھی پڑھ لو تو بھی یہ ثواب نہیں کعبہ معظمہ سارا ہی خدا کا گھر ہے مگر رکن اسود بہت اعلیٰ ہے،مسجد ساری بیت اﷲ ہے مگر محراب و منبر اعلیٰ ہیں لہذا اس فضیلت پر منکرین حدیث کا یہ اعتر اض نہیں پڑسکتا کہ سارا ہی قرآن کلام الٰہی ہے پھر یہ فرق مراتب کیسا نبیوں،ولیوں میں فرق مراتب موجود ہے حالانکہ وہ سارے اﷲ کے پیارے ہیں"تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْض

2109 -[1]

عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ من تعلم الْقُرْآن وَعلمه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۱؎ (بخاری)

۱؎ قرآن سیکھنے سکھانے میں بہت وسعت ہے بچوں کو قرآن کے ہجے روزانہ سکھانا،قاریوں کا تجوید سیکھنا سکھانا،علماء کا قرآنی احکام بذریعہ حدیث وفقہ سیکھانا سکھانا صوفیائے کرام کا اسرار و رموز قرآن بسلسلہ طریقت سیکھنا سکھانا سب قرآن ہی کی تعلیم ہے صرف الفاظ قرآن کی تعلیم مراد نہیں،لہذا یہ حدیث فقہاء کے اس فرمان کے خلاف نہیں کہ فقہ سیکھنا تلاوت قرآن سے افضل ہے کیونکہ فقہ احکام قرآن ہے اور تلاوت میں الفاظ قرآن چونکہ کلام اﷲ تمام کلاموں سے افضل ہے لہذا اس کی تعلیم تمام کاموں سے بہتر اور اسرار قرآن الفاظ قرآن سے افضل ہیں کہ الفاظ قرآن کا نزول حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے کان مبارک پر ہوا اور اسرار و احکام کا نزول حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پرہوا،تلاوت سے علم فقہ افضل رب تعالٰی فرماتاہے:"نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ"عمل بالقرآن علم قرآن کے بعد ہے لہذا عالم عامل سے افضل ہے آدم علیہ السلام عالم تھے فرشتے عامل مگر حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام افضل و مسجود رہے۔

2110 -[2]

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْم إِلَى بطحان أَو إِلَى العقيق فَيَأْتِي مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رحم» فَقُلْنَا يَا رَسُول الله نُحِبُّ ذَلِكَ قَالَ: «أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ الله عز وَجل خير لَهُ من نَاقَة أَو نَاقَتَيْنِ وَثَلَاثٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِل» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عقبہ بن عامر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف لائے جب کہ ہم صفہ میں تھے ۱؎ فرمایا تم میں کون یہ چاہتا ہے کہ ہر صبح بطحان یا عقیق کی طرف نکل جایا کرے اور بغیر گناہ کئے بغیر رشتہ توڑے دو اونچی اونٹنیاں لے آیا کرے ۲؎ ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو ہم سب چاہتے ہیں۳؎ فرمایا تو تم میں سے ہر شخص روزانہ صبح کو کیوں نہ مسجد چلا جایا کرے وہاں قرآن کریم کی دو آیتیں سیکھ لیا کرے یا پڑھ لیا کرے ۴؎ یہ دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور چار چار سے اور اسی قدر اونٹوں سے بہتر ہیں ۵؎(مسلم)

 



Total Pages: 441

Go To